پاکستانی بچوں اور ماؤں کی خوراک میں سیسہ کی بڑھتی مقدار

Image caption اس تحقیق میں حاملہ خواتین، نوزائیدہ بچوں اور تین سال تک کی عمر کے بچوں کو شامل کیا گیا ہے

پاکستان میں 50 فیصد سے زائد ماؤں کی ہفتہ وار خوراک میں عالمی معیار سے 8.5 فیصد زائد جبکہ پانچ سال کی عمر کے بچوں کی خوراک میں 93 فیصد سیسہ موجود ہے۔

یہ حقائق آغا خان یونیورسٹی کی تحقیق میں سامنے آئے ہیں۔

صحت کے عالمی ادارے ڈبلیو ایچ او کے مطابق ماں اور بچے کی ہفتہ وار خوراک میں سیسے کی موجودگی 15 مائیکروگرام فی کلو گرام باڈی ویٹ ہونی چاہیے۔

سیسہ ایک ایسی دھات ہے جو پیٹ میں جانے کی صورت میں ذہنی پسماندگی کی وجہ بنتی ہے۔

اس تحقیق کے سربراہ ڈاکٹر ظفر فاطمی کا کہنا ہے کہ ماں کے پیٹ سے لے کر پیدائش کے پانچ سالوں تک بچوں کی ذہنی نشوونما ہوتی ہے۔ اگر اس عرصے میں سیسہ خون میں شامل ہوجائے تو ذہنی نشوونما متاثر ہوتی ہے اور ان میں سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کم ہوجاتی ہے۔

اس تحقیق میں حاملہ خواتین، نوزائیدہ بچوں اور تین سال تک کی عمر کے بچوں کو شامل کیا گیا ہے۔

بچوں اور خواتین کی تین دنوں کی غذا اور پانی کو لیبارٹری میں لاکر ان کے ٹیسٹ کیے جاتے ہیں اس کے علاوہ گھر میں موجود دھول مٹی اور ہوا کے نمونے بھی لیے جاتے ہیں۔

محققین کے مطابق پاکستان میں اپنی طرز کی یہ پہلی وسیع تحقیق ہے، جس میں یہ دیکھا جارہا ہے کہ غذا میں کن ذرائع سےسیسہ شامل ہوتا ہے۔زیر تحقیق خواتین اور بچوں کے خون، بالوں اور ناخنوں کے نمونے بھی حاصل کیے جاتے ہیں۔

ڈاکٹر ظفر فاطمی کے مطابق بالوں اور ناخنوں کے ذریعے سیسے کے طویل المعیاد اثرات کے بارے میں معلومات ملتی ہے۔

ڈاکٹر ظفر فاطمی کے مطابق اب تک کی تحقیق سے یہ نتیجہ سامنے آیا ہے کہ ڈبوں میں آنے والی غذا جس میں بسکٹ، چپس، ٹافیاں اور چھالیاں وغیرہ شامل ہیں کہ ذریعے بچوں میں سیسہ منتقل ہو رہا ہے، یہ اشیا بچے کی غذا نہیں لیکن یہ 40 سے 50 فیصد غذا بن جاتی ہے۔

عالمی ادارہ صحت کا اندازہ ہے کہ سیسے کے اثرات سے دنیا بھر میں سالانہ 6 لاکھ بچے ذہنی معذور ہوتے ہیں جبکہ ایک لاکھ 40 ہزار ہلاکتیں ہوتی ہیں۔

ڈبلیو ایچ او آئندہ سال صحت پر منفی اثرات کی وجہ سے سیسے کی معیار 15 گرام فی کلو باڈی ویٹ کو مزید کم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

بچوں اور خواتین کے بناؤ سنگھار میں سرمے کا استعمال ایک قدیم روایت ہے لیکن یہ خوبصورتی بچوں کی ذہانت کو متاثر کرنے کی وجہ بھی بن سکتی ہے۔

اس تحقیق کی ایک اور محقق ڈاکٹر امبرین سہتو کا کہنا ہے کہ بچے آنکھوں کو مسلتے ہیں اور یہ ہی ہاتھ منہ میں ڈالتے ہیں اس طرح یہ سرمہ ان کے جسم میں داخل ہوجاتا ہے، اسی سرمے میں 90 فیصد تک سیسہ پایا جاتا ہے یہ سیسہ جسمانی صحت پر بلکہ ذہنی نشوونما پر بھی منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔

Image caption بچوں اور خواتین کے بناؤ سنگھار میں سرمے کا استعمال ایک قدیم روایت ہے لیکن یہ خوبصورتی بچوں کی ذہانت کو متاثر کرنے کی وجہ بھی بن سکتی ہے

محققین کا کہنا ہے کہ گھروں میں زیر استعمال برتن بھی جسم میں سیسہ جانے کی ایک وجہ بن سکتے ہیں۔

ڈاکٹر امبرین سہتو کے مطابق: ’گھروں میں جو برتن استعمال ہوتے ہیں وہ مختلف دھاتوں سے بنتے ہیں اور دھاتوں میں سیسے کی بھی ایک بڑی تعداد شامل ہوتی ہے۔‘

ان برتنوں میں جو کچھ پکایا جاتا ہے اس کے ذریعے بھی سیسہ بچوں کے جس میں داخل ہوتا ہے اس صورتحال میں ان کا مشورہ یہ ہی ہوتا ہے کہ نان سٹک برتن استعمال کیے جایں۔

گھروں کی آرائش، کھلونوں ، فرنیچر اور کھیل کے سامان میں بھی سیسے کا استعمال عام ہے جبکہ پاکستان سمیت کئی ممالک میں رنگ میں سیسے کے استعمال پر پابندی عائد ہوچکی ہے۔

بچوں کے امراض کی ماہر ڈاکٹر مبینہ آگبوٹ والا کہتی ہیں کہ سیسے کے بارے میں عام لوگ اور ڈاکٹروں کی اکثریت بھی لاعلم ہے۔ ان کے مطابق سیسے کی زیادتی آئی کیو لیول کے علاوہ خون کو متاثر کرتی ہے جس کی وجہ سے ہیموگلوبین لیول کم ہونے لگتے ہیں اور بچہ اینیما کا شکار ہوجاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا اس صورتحال میں بھی ڈاکٹر سیسے کے اثرات کی طرف نہیں جاتے بلکہ آئرن کی کمی اور خوراک کو مد نظر رکھتے ہیں۔ جسم میں سیسے کی سطح اسی طرح بڑھتی رہے تو گردوں کو بھی متاثر کرتی ہے اور کبھی کبھار گردے خراب بھی ہوجاتے ہیں۔

ورلڈ فوڈ آرگنائزیشن اور ڈبلیو ایچ او کی ایک مشترکہ کمیٹی آئندہ سال خوراک میں سیسے کی مقدار کا دوبارہ تعین کرے گی، جس میں آغا خان فاؤنڈیشن کی یہ رپورٹ بھی مددگار ثابت ہوگی۔

اسی بارے میں