کوہاٹ دستی بم حملے میں خاتون ہلاک

فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption کوہاٹ میں ہی حکام کا کہنا ہے کہ کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے دو اہم ٹارگٹ کلرز کو گرفتار کر لیا گیا ہے

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے ضلع کوہاٹ میں پولیس کا کہنا ہے کہ دستی بم کے ایک حملے میں ایک نوجوان خاتون ہلاک ہوگئی ہیں۔

پولیس کے مطابق یہ واقعہ اتوار کی صبح کوہاٹ شہر سے چند کلومیٹر دور استرزئی کے علاقے میں پیش آیا۔ کوہاٹ پولیس کے ترجمان کے مطابق مسلح ملزمان نے ندیم عباس نامی ایک شخص کے مکان پر دستی بم سے حملہ کیا جس سے وہاں موجود ان کی بہن موقع ہی پر ہلاک ہوگئی۔ مرنے والی خاتون کی عمر 23 سال بتائی جاتی ہے۔

پولیس اہلکاروں کا کہنا کہ فریقین کے درمیان کئی سالوں سے دشمنی چلی آرہی ہے جس میں پہلے بھی ہلاکتیں ہوچکی ہیں۔ حملے کے بعد ملزمان فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔

ادھر کوہاٹ میں ہی حکام کا کہنا ہے کہ کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے دو اہم ٹارگٹ کلرز کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق گزشتہ روز ہنگو اور کوہاٹ کے علاقے نصرت خیل میں چھاپوں کے دوران اسرافیل اور جمیل نامی دو شدت پسند کمانڈروں کو گرفتار کرلیا گیا تھا۔ دونوں کمانڈروں کا تعلق کالعدم تنظیموں سے رہا ہے جن میں ایک کا تعلق اورکزئی ایجنسی اور دوسرے کا کوہاٹ کے محمد زئی کے علاقے سے رہا ہے۔

کوہاٹ پولیس کے ترجمان کے مطابق حکومت کی طرف سے شدت پسند کمانڈر جمیل کے سر پر پانچ لاکھ روپے کا انعام مقرر کیا گیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ دونوں دہشت گرد کوہاٹ ڈوژن میں متعدد بم دھماکوں، قتل اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں ملوث رہے ہیں۔

خیال رہے کہ گزشتہ کچھ عرصہ سے کوہاٹ اور ہنگو میں محکمے انسداد دہشت گردی اور پولیس کی طرف سے کارروائیوں میں تیزی لائی گئی ہے اور اس دوران کئی دہشت گردوں کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

اسی بارے میں