الطاف حسین کو 81 سال قید کی سزا سنا دی گئی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption الطاف حسین کو سزا کے ساتھ ساتھ جائیداد ضبط کرنے کے علاوہ 24 لاکھ روپے جرمانہ بھی کیا گیا ہے

پاکستان کے شمالی علاقے گلگت بلتستان میں انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت نے متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ الطاف حسین کو مختلف مقدمات میں دو مرتبہ عمر قید سمیت مجموعی طور پر 81 سال قید کی سزا سنائی ہے

الطاف حسین کو یہ سزا پاکستان کے سکیورٹی اداروں کے خلاف متنازع تقاریر کرنے پر سنائی گئی ہے۔

الطاف حسین کو سزا کے ساتھ ساتھ جائیداد ضبط کرنے کے علاوہ 24 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔

الطاف حسین کی تقاریر پر اخبارات میں بھی پابندی

عدالت نے الطاف حسین کو تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 124A کے تحت عمر قید اور دس لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی ہے جبکہ دفعہ 153A کے تحت انھیں پانچ سال قید اور پانچ لاکھ جرمانہ، دفعہ 200 کے تحت دو سال قید اور ایک لاکھ جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔

عدالت نے دفعہ 504 کے تحت دو سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانہ اور دفعہ 505 کے تحت سات سال قید اور پانچ لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔

انسدادِ دہشت گردی کے قاتون کے دفعہ 11V کے تحت عمر قید اور تمام اندرون ملک اور بیرون ملک جائیدار ضبط کرنے کا حکم دیا ہے۔

عدالت نے انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کے قانون کے تحت دس دس سال قید اور تین لاکھ روپے جرمانہ کا حکم سنایا ہے۔

پاکستان کے سکیورٹی اداروں کے خلاف متنازع تقاریر پر الطاف حسین کے خلاف گلگت بلتستان کی عدالتوں میں نو مقدمات درج کروائے گئے تھے۔ ان تمام مقدمات پر انسداد دہشت گردی کے عدالت نے 21 ستمبر کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

خیال رہے کہ پاکستان کے سکیورٹی اداروں کے خلاف اشتعال انگیز تقاریر کرنے اور ہندوستان کی خفیہ ایجنسی را سے مدد مانگنے اور فوج پر تنقید کرنے پر متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین کے خلاف ملک میں سو سے زائد مقدمات درج ہیں اور لاہور ہائیکورٹ نے الطاف حسین کے براہراست خطاب نشر کرنے پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔

یاد رہے کہ الطاف حسین نے اپنے متنازع خطاب پر معذرت کی تھی۔

اسی بارے میں