’جو کھمبے لگوائے گا ووٹ اسی کا‘

Image caption این اے 122 کے حلقے کے غریب مکینوں کی زندگی میں کچھ نہیں بدلا

کئی گھنٹوں کی خاموشی کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ’ہم نے این اے 122 میں شکست کے باوجود حکمران جماعت، سرکاری مشینری اور صوبائی الیکشن کمیشن کو چیلنج کر کے اخلاقی فتح حاصل کر لی ہے، تاہم ہم اس بار بھی مسلم لیگ (ن) کی دھاندلی سے بچنے کے لیے تیار نہ تھے اور آئندہ انتخابات میں غلطیوں سے سبق سیکھ کر دھاندلی کے تمام طریقوں کا بھرپور مقابلہ کریں گے۔‘

دوسری جانب جہاں پاکستان مسلم لیگ نون اپنے آبائی حلقے سے اپنی قومی اسمبلی کی سیٹ کا تحفظ کرنے میں تو کامیاب رہی لیکن اب تک دو صوبائی سیٹیں ہار چکی ہے۔

حلقہ این اے 122: ’شکست تسلیم لیکن انتخاب پر تحفظات ہیں‘

مبصرین کا کہنا ہے کہ جماعت کا اپنے سیاسی گڑھ میں محض چار ہزار ووٹوں سے بازی لے جانا بڑا سیاسی کارنامہ نہیں۔

واضح رہے کہ لاہور کے حلقے این اے 122 میں اتوار کو ہونے والے ضمنی انتخاب میں مسلم لیگ (ن) کے امیدوار اور سابق سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے 76 ہزار 204 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی تھی۔

تحریک انصاف کے امیدوار علیم خان ضمنی انتخاب میں تقریباً 72 ہزار ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے تھے۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق لاہور کے حلقے این اے 122 میں ساڑھے تین لاکھ سے زائد رجسٹرڈ ووٹ ڈالنے والوں میں سے ووٹر ٹرن آؤٹ کی شرح محض 40 فیصد رہی جو ماضی کے انتخابات کے مقابلے میں کہیں کم ہے۔

حلقے کے محلہ سیداں شاہ کی ہر گلی میں مسلم لیگ نون اور تحریک انصاف کے بینر اب بھی لہرا رہے ہیں۔ لیکن اس حلقے کے غریب مکینوں کی زندگی میں کچھ نہیں بدلا۔

مہنگائی ، لوڈ شیڈنگ اور بے روزگاری کا وہی عالم ہے جو پہلے تھا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ یہاں کے لوگ الیکشن کو ایک ایسا وقت سمجھتے ہیں جب یہ اپنے علاقے میں سیاسی رہنماؤں سے کوئی کام لے سکیں۔

الیکشن سے بس دو دن پہلے ہی علاقے میں بجلی کے کھمبے لگائے گئے ہیں۔ تاجر منیر حسین نے کہا ’یہ سب صرف الیکشن میں ہی یہاں نظر آتے ہیں، ہم نے موقعے سے فائدہ اٹھایا اور کہہ دیا جو کھمبے لگوائے گا ووٹ اسی کا ہو گا۔‘

Image caption شگفتہ بی بی کے بچے امید چھوڑ چکے ہیں اور اس بار ووٹ ڈالنے ہی نہیں گئے

مقامی رہائشیوں نے بتایا کہ اس علاقے سے مسلم لیگ نون دو دیہائیوں سے جیتتی آ رہی ہے لیکن اس بار سردار ایاز صادق اور علیم خان کا انتہائی قریبی مقابلہ رہا۔

کچھ نے روایتی وفاداری پر ضروریات کو ترجیح دی اور بہت سے ایسے بھی تھے جو سیاسی قیادت کی گذشتہ سالوں میں اپنے ہی حلقوں سے لاتعلقی کی بنیاد پر مایوسی کے نتیجے میں ووٹ ڈالنے ہی نہیں آئے۔

شگفتہ بی بی، ایک بیوہ خاتون ہیں جنھوں نے لوگوں کے گھروں میں کام کاج کر کے اپنے چھے بچوں کو پڑھایا لکھایا۔ آج ان بچوں کو بنا سفارش کے نوکری نہیں مل رہی۔

بوسیدہ مکان کے باہر ایک گندہ نالہ بہتا ہے۔ ’میں نے شیر پر ٹھپا لگا دیا تاکہ شاید اب تو اس نالے کو ڈھک دیں، اتنی بار درخواست دی ہے۔‘

ان کے بچے امید چھوڑ چکے ہیں اور اس بار ووٹ ڈالنے ہی نہیں گئے۔ ان کی بیٹی لائبہ نے کہا ’ہم سب نوجوان لوگوں نے اجتماعی فیصلہ کیا کہ ہم نہیں جائیں گے ، آپ ہمارے تعلیمی اداروں میں جا کر دیکھیں کتنے برے حالات ہیں۔دو بجلی کے کھمبے لگائے ہیں لیکن ان پانچ کھمبوں کا کیا ہو گا جو مخالف پارٹی لگا گئی تھی اور ان کے حمایتی توڑ گئے؟‘

تجزیہ نگار امتیاز عالم کے خیال میں یہ پاکستان کی تاریخ میں سب سے مہنگے ضمنی انتخابات تھے۔’عمران خان نے بھی امیدوار کا چناؤ اسی پیمانے پر کیا، ادھر سے سردار صاحب کی حمایت میں پوری وفاقی، صوبائی اور مقامی حکومت کھڑی تھی ، دونوں کی مہموں میں اربوں خرچ ہو گئے ہیں، ایک پولنگ سٹیشن پرایک ہی پارٹی کے دس دس کیمپین دفاتر نظر آ رہے تھے۔‘

امتیاز عالم کے خیال میں جہاں سیاسی رہنماؤں کے مطابق یہ ضمنی انتخابات جمہوری عمل کو مزید مستحکم کر رہے ہیں وہاں اس کا فائدہ اس عوام کو نہیں پہنچ رہا جن سے ووٹوں کی توقع کی جاتی ہےاور یہی وجہ ہے کہ ووٹروں کا ٹرن آؤٹ پچھلے انتخابات کے مقابلے میں کم تھا۔

’جمہوری عمل میں سے اب عوام کو نکال دیا گیا ہے۔ الیکشن ایک مخصوص مدے کے لیے ہوا اور بہت سے لوگوں نے ووٹ نہ ڈال کر دونوں پارٹیوں کو پیغام دیا ہے کہ جیت نہ تو مسلم لیگ نون کی ہوئی ہے اور نہ ہی تحریک انصاف کی۔‘

علاقے کے ایک رہائشی نے دونوں سیاسی جماعتوں کی انتخابی مہم پر یہ تبصرہ کیا ’اپنی دکانیں چمکانے کی بجائے یہ پیسہ اپنے غریب ووٹروں پر ہی خرچ کر لیتے۔‘

اسی بارے میں