پاکستان کی ترکی کو تعاون کی یقین دہانی

تصویر کے کاپی رائٹ twitter
Image caption پاکستان اور ترکی کو بڑے خطرناک چیلینجوں کا سامنا ہے: راحیل شریف

آرمی چیف جنرل راحیل شریف نےدہشت گردی سے نمٹنے کے لیے ترکی کو پاکستان کی جانب سے بلاجھجھک تعاون فراہم کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے۔

جنرل راحیل شریف نے یہ بات تین روزہ دورے پر ترکی پہنچنے کے بعد کہی۔

’انقرہ دھماکوں کے پیچھے دولتِ اسلامیہ‘

ترکی میں کرد باغیوں کے حملوں میں اضافہ کیوں؟

خیال رہے کہ پاکستان کے آرمی چیف ایک ایسے وقت میں ترکی پہنچے ہیں جب وہاں دو روز قبل ہونے والے بم دھماکوں میں ایک سو سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ شام میں روس کے فضائی حملوں کے حلاف ترکی اور مغربی ممالک متحد نظر آ رہے ہیں۔

فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری کیے جانے والے پیغام کے مطابق انقرہ میں ترکی کی بری فوج کے ہیڈکوارٹر میں آرمی چیف جنرل راحیل شریف کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔

ترک ہم منصب سے ملاقات میں انھوں نے انقرہ میں ہونے والے دہشت گردی کے حملوں پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ ’ہم آپ کو درپیش چیلینج کی شدت کو سمجھتے ہیں اور آپ کے ساتھ ہیں۔‘

جنرل راحیل شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور ترکی کو بڑے خطرناک چیلینجوں کا سامنا ہے۔

’مجھے یقین ہے کہ ہم اس پر یکساں اور مربوط حکمتِ عملی کے ذریعے قابو پا لیں گے۔ ہم آپ کو بلاجھجھک تعاون کی یقین دہانی کرواتے ہیں۔‘

دونوں رہنماؤں نے انسدادِ دہشت گردی، تربیتی امور اور بارودی سرنگوں کے خاتمے سے متعلق امور پر تبادلۂ خیال کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ twitter
Image caption ماڈرن ترکی کے بانی کمال اتاترک کے مقبرے پر حاضری دیتے ہوئے

جنرل راحیل شریف نے ماڈرن ترکی کے بانی کمال اتاترک کے مقبرے پر پھولوں کی چادر چڑھائی۔

انسدادِ دہشت گردی اور علاقائی امن کے لیے ان کی کوششوں پر انھیں ’ترکش لیجنڈ آف میرٹ‘ کے اعزاز سے بھی نوازا گیا۔

دوسری جانب پاکستان کے وزیراعظم کے خصوصی معاون برائے خارجہ امور طارق فاطمی نے بھی پیر کو اسلام آباد میں ترکی کے سفارت خانے کا دورہ کیا اور انقرہ واقعہ پر اظہارِ افسوس کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان ترکی کی مدد کے لیے پرعزم ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان اور ترکی کی موجودہ حکومتوں کے درمیان قربت میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ یہ بھی تاثر ہے کہ اس کی اہم وجہ یہ ہے کہ دونوں جانب حکومتوں کا جھکاؤ نظریاتی طور پر دائیں بازو کی جانب ہونا ہے۔

اسی بارے میں