’پاکستانی صحافت میں افغانستان کا تاثر منفی کیوں؟‘

Image caption افغان صحافیوں کو شکایت تھی کہ افغانستان میں کیبل آپریٹر کئی پاکستانی نیوز چینل دکھا رہے ہیں لیکن پاکستان میں ایک افغان چینل کو بھی ایسی آزادی نہیں ہے

افغانستان سے آئے کوئی ایک درجن نوجوان صحافی دیکھنے پاکستان۔ ان میں سے اکثر کو پہلی مرتبہ یہاں آنے کا موقع ملا۔ یہ تمام نوجوان ذہنوں میں چند سوال لے کر آئے تھے کہ پاکستان کے حکام سے مل کر ان کے جواب تلاش کرنے کی کوشش کریں گے، اور جانیں گے کہ پاکستان میں افغانستان سے متعلق منفی خبریں ہی کیوں نشر یا شائع ہوتی ہیں؟

ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں اکثر صحافی افغانستان کے بارے میں کچھ نہیں جانتے لیکن جب بولتے اور لکھتے ہیں تو منفی ہی لکھتے ہیں۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس شہر اقتدار میں آ کر بھی وہ خالی ہاتھ واپس چلے گئے۔

ایک سرکاری افسر نے کہا کہ آج اتوار کی چھٹی ہے اس لیے ملاقات ممکن نہیں اور وفاقی وزیر برائے عمران خان معاف کیجے گا، برائے اطلاعات پرویز رشید نے بھی ملنے سے انکار کر دیا۔

ہم افغانستان کے چوکیدار نہیں: نثار

کہتے ہیں کہ آپ دوست تبدیل کر سکتے ہیں لیکن ہمسائے نہیں۔ ایسے میں جب مشرقی سرحد پر ملک کے ساتھ ہمارا دائمی بیر ہے اور تعلقات کسی صورت بہتر نہ کرنے ہیں اور نہ ہونے ہیں، تو پھر مغرب ہی پر رحم کریں۔

پہلے ہی افغانستان میں پاکستان کو کوئی زیادہ اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا۔ وہاں آپ چاہے یونیورسٹیاں بنا دیں، ہسپتال دے دیں لیکن اگر دل و دماغ پر آپ کا راج نہیں اور آپ کے لیے اچھے نیک خیالات نہیں تو اس سرمایہ کاری کا کوئی فائدہ نہیں۔ یہ دل و دماغ آپ اچھے سلوک اور پیار کے دو بول بول کر ہی انتہائی سستے میں جیت سکتے ہیں۔

نوجوان افغان صحافیوں کے اس وفد میں ہر رنگ و نسل کے لوگ تھے، پشتون بھی تھے اور فارسی وان بھی۔ مرد بھی تھے اور عورتیں بھی۔ اس دورے کا مقصد پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات کی بہتری، صحافتی میدان میں تعاون بڑھانا اور منفی پروپیگنڈے کا توڑ کرنا تھا۔

اس بارے مںی گذشتہ چند برسوں سے ایک دوسرے کے صحافیوں کے چار ایسے دورے منعقد کروائے جا چکے ہیں۔ اس مرتبہ افغان صحافیوں کی پاکستان آنے کی باری تھی۔ وہ پشاور، لاہور اور اسلام آباد گھومے۔

ان سے مختصر گفتگو کا موقع ملا تو معلوم ہوا کہ ان کو پاکستان میں افغانستان کی کوریج پسند نہیں آئی۔ ان کا موقف تھا کہ محض منفی واقعات ہی بتائے جاتے ہیں اور افغانستان میں شدت پسندوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے لوگوں جیسی کہانیاں یہاں کوئی نہیں سناتا۔

انھیں یہ شکایت بھی تھی کہ افغانستان میں کیبل آپریٹر کئی پاکستانی نیوز چینل دکھا رہے ہیں لیکن پاکستان میں ایک افغان چینل کو بھی ایسی آزادی نہیں ہے۔ ان کا موقف تھا کہ لینڈنگ رائٹس مغربی امیر ممالک کے چینل تو دے سکتے ہیں لیکن افغانستان کے نہیں۔ وہ تو تنخواہیں بھی بڑی مشکل سے دیتے ہیں۔ ان کو امید تھی کہ اس دورے سے ایک ملک کے صحافی دوسرے کے صحافی سے براہ راست رابطہ کرسکیں گے اور مصدقہ معلومات حاصل کر پائیں گے۔

افغان صحافیوں میں ایک افغان پشتو ٹی وی چینل کی عورتوں سے متعلق لائیو پروگرام کی میزبان پُشتانہ عرب زئی بھی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں عورتیں اب بڑی تعداد میں ذرائع ابلاغ میں آ رہی ہیں۔ ان کو درپیش مشکلات کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ اداروں سے زیادہ وہاں گھر والوں سے مخالفت ہوتی ہے۔

’میں منہ ڈھانپ کر اگر نہ بازار جاؤں تو لوگ آوازیں کستے ہیں۔ لیکن وہ ٹھیک ہے، اسے برداشت کر لیتی ہوں لیکن گھر والوں کی مخالفت مشکل ہوتی ہے۔‘

امید کی جاسکتی ہے کہ اعلیٰ حکام اور وزرا اتوار کی چھٹی کسی دوسرے دن لے لیں گے لیکن اس طرح دل و دماغ جیتنے کا موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیں گے۔

اسی بارے میں