’2000 کے بعد کسی کم عمر کو موت کی سزا نہیں دی گئی‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption وزارت قانون کے مطابق ملک بھر کی جیلوں میں کم عمر ملزموں کے لیے علیحدہ سیل بنائے گئے ہیں اور ان ملزموں کو بالغ ملزموں کے ساتھ نہیں رکھا جاتا

پاکستان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ کو بتایا گیا ہے کہ ملک بھر میں کم عمر بچوں کے جرائم سے متعلق سنہ 2000 میں متعارف کروائے جانے والے جووینائل جسٹس سسٹم آرڈینس کے بعد سے کسی بھی کم عمر قیدی کو موت کی سزا نہیں سنائی گئی۔

پھانسی سے جرائم کے خاتمے کی سوچ کامیاب ہو گی؟

وزارت قانون کی طرف سے سینیٹ میں جمع کروائے گئے تحریری جواب میں یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ اس آرڈینس کے متعارف ہونے کے 15 سال کے بعد بھی ملک بھر میں کم عمر ملزموں کے مقدمات کی سماعت کے لیے ابھی تک عدالتیں قائم نہیں کی گئیں جبکہ اس بارے میں متعقلہ حکام اور اداروں کو متعدد بار خطوط لکھے جا چکے ہیں۔

واضح رہے کہ کراچی میں ایک بچے کو اغوا اور قتل کے مقدمے میں ملوث شفقت حسین کو سنہ 2004 میں انسداد دہشت کی عدالت میں موت کی سزا سنائی تھی تاہم مجرم کے ورثا کا کہنا تھا کہ جس وقت اس سے جرم سرزد ہوا تھا وہ کم عمر تھا۔ شفقت حسین کو چار اگست کو سزائے موت دی گئی تھی۔

حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والی سینیٹر نزہت صادق کی طرف سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں بتایا گیا ہے کہ ان عدالتوں کے قیام تک ہائی کورٹ نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز کو کم عمر ملزموں کے مقدمات سننے کا اختیار دیا ہے۔

ایوان کو بتایا گیا کہ ملک کے تین صوبوں میں کم عمر قیدیوں کے لیے حراستی مراکز بنائے گئے ہیں جن میں صوبہ پنجاب کے شہروں فیصل آباد اور بہاولپور میں، سندھ کے شہروں کراچی، حیدر آباد اور لاڑکانہ میں جبکہ صوبہ خیبر پختونخوا کے شہروں بنوں، پشاور اور ہری پور میں حراستی مراکز قائم کیے گئے ہیں۔

ایوان کو بتایا گیا کہ اسلام آباد میں بھی کم عمر ملزموں کے لیے حراستی مرکز تعمیر کیا جا رہا ہے۔

ایوان کو بتایا گیا کہ ملک بھر میں کم عمر ملزموں کو قانونی معاونت فراہم کرنے کے لیے وکلا پر مشتمل پینل تشکیل دیے گئے ہیں جو ضرورت مند ملزموں کو بلا معاوضہ قانونی معاونت فراہم کرتے ہیں۔

وزارت قانون کے مطابق ملک بھر کی جیلوں میں کم عمر ملزموں کے لیے علیحدہ سیل بنائے گئے ہیں اور ان ملزموں کو بالغ ملزموں کے ساتھ نہیں رکھا جاتا۔

اسی بارے میں