ٹیکسٹائل صنعت کار حکومت سے ناراض کیوں؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption سلیم صالح کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم نے ملاقات کے اگلے پانچ روز میں ٹیکسٹائل پیکیج لانے کی یقین دہانی کرائی تھی

پاکستان میں ٹیکسٹائل کارخانوں کے مالکان نے ہڑتال کر دی ہے، مالکان کا مطالبہ ہے کہ گیس و بجلی کے نرخوں میں کمی کی جائے، بھارت سے یارن کی درآمد پر پابندی عائد کی جائے اور حکومت ٹیکسٹائل پیکیج کا اعلان کرے۔

حکومت اور آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن میں مذاکرات کی ناکامی کے بعد مالکان نے احتجاج کا راستہ اختیار کیا ہے۔

ٹیکسٹائل ملزم مالکان نے اگست میں بھی ہڑتال کا اعلان کیا تھا لیکن وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی مداخلت پر اسے واپس لے لیا گیا تھا جس کے بعد تنظیم کے وفد نے وزیر اعظم میاں نوازشریف سے ملاقات کی لیکن اس کا بھی کوئی نتیجہ نہیں نکل سکا۔

آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن کے صدر سلیم صالح کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار سے مذاکرات کو دو ماہ اور وزیر اعظم میاں نواز شریف سے ملاقات کو ایک ماہ کا عرصہ گزر چکا ہے لیکن کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔

وزیر اعظم نے ملاقات کے اگلے پانچ روز میں ٹیکسٹائل پیکیج لانے کی یقین دہانی کرائی تھی۔

ٹیکسٹائل ملزم مالکان کا کہنا ہے کہ گیس انفراسٹرکچر ڈیویلپمنٹ سیس یعنی جی آئی ڈی سی کے نفاذ اور بجلی پر سرچارج سے ان پر 172 ارب روپے کا بوجھ آگیا ہے۔

سلیم صالح کے مطابق وہ حکومت سے اپیل کر رہے ہیں کہ انھیں خطے میں برابری کے نرخ دیں، کیونکہ انڈیا، چین، ویتنام اور بنگلہ دیش میں گیس اور بجلی کے نرخ بہت کم ہیں۔ ’وہاں گیس 3.2 ڈالر ایم ایم بی ٹی یو جبکہ پاکستان میں 7.7 ڈالر ایم ایم بی ٹی یو ہے، اسی طرح ریجن میں بجلی کےنرخ نو سینٹ جبکہ پاکستان میں 14 سینٹ ہیں۔ لہٰذا ہمیں بھی اسی نرخ پر بجلی دی جائے۔‘

آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن کا ایک اور مطالبہ بھارت سے یارن کی درآمد پر پابندی یا ڈیوٹی کا نفاذ بھی ہے۔ آپٹما کے رہنما سلیم صالح کے مطابق بھارت سے یارن کی امپورٹ پر 25 فیصد ریگیولیٹری ڈیوٹی لگائی جائے کیونکہ پاکستان سے جو مصنوعات انڈیا جاتی ہیں اس پر 28 فیصد ڈیوٹی ہے۔ ان کے مطابق گذشتہ سال بھارت سے 14 ہزار ٹن یارن آیا ، جس سے مقامی صنعت متاثر ہو رہی ہے۔

پاکستان میں ٹیکسٹائل کا شمار اول درجے کی صنعتوں میں ہوتا ہے، جو ہر سال 13 ارب ڈالر کی ایکسپورٹ کرتی ہے اور ڈیڑھ کروڑ لوگوں کو روزگار فراہم کر رہی ہے۔ آپٹما کا دعویٰ ہے کہ توانائی کے بحران اور لاگت بڑھ جانے کی وجہ سے 20 سے 25 فیصد یونٹس بند ہوگئے ہیں۔

یورپی یونین نے 2013 میں اپنی منڈیوں تک ٹیکس فری رسائی کے لیے پاکستان کو بھی جی ایس پی پلس کا درجہ دیا تھا۔ آپٹما کا کہنا ہے کہ سہولیات کے فقدان اور ٹیکسوں میں اضافے کی وجہ سے وہ ان مراعات کا فائدہ نہیں اٹھا سکے۔

آپٹما کے سابق صدر یاسین صدیقی کے مطابق ’جی ایس پی پلس کے بعد اندازہ تھا کہ پاکستان کی ٹیکسٹائل ایکسپورٹ میں دو ارب ڈالر کا اضافہ ہوگا یعنی 13 ارب ڈالر سے 15 ارب ڈالر ہوجائی گی لیکن یہاں مصنوعات پر لاگت میں اضافے کی وجہ سے ہماری ایکسپورٹ وہیں کھڑی ہے اور اس کے برعکس جی ایس پی پلس ملنے پر انڈیا نے اپنی صنعت کو دس فیصد سبسڈی دی ہے۔‘

اسی بارے میں