پرنامی مندر میں الگ دور کی یادوں کا بسیرا

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

پاکستان کے صوبے پنجاب کے شہر پاکپتن کی مسجد پیر وارث شاہ کے پہلو میں قدیم پرنامی مندر میں ایک الگ دور کی یادوں کا بسیرا ہے جب ہندو اور مسلمان ایک ہی گلی سے مسجد اور مندر جایا کرتے تھے۔

مسجد باقی ہے، مندر ملبے کا ڈھیر ہے۔ یہ 800 سال پرانی چھجو ہندو قوم کی 300 ایکڑ پر مشتمل عبادت گاہ ہوا کرتی تھی تاہم اب اس کا ایک چھوٹا سا گوشہ ہی سالم حالت میں ہے۔

چھجے پر ایک قطار میں انتہائی نفاست سے بنائی گئی مورتیاں تاریخ اور بدلتے حالات کی خاموش گواہ ہیں۔ چھتوں پر کسی گمنام مصور کی رامائن کی کہانیوں پر مبنی پینٹنگز تھیں جن کو کھرچ دیا گیا ہے۔

چند سال قبل یہاں مدرسہ تھا، اب کسی کی رہائش ہے۔ اسے ہمارے کیمرے نے شاید آخری بار تاریخ میں محفوظ کیا کیونکہ گھر والے بقایا مجسموں کو گرانے والے ہیں۔

مقامی لوگوں کے مطابق حکومت کی عدم دلچسی میں اس پر کئی بار قبضہ ہو چکا ہے۔ محلے میں پچھلے 70 سال سے رہنے والے جمشید بابا نے بتایا ’اس مندر میں صرف توڑ پھوڑ ہی نہیں کی گئی بلکہ یہاں سے سامان بھی غائب کیا گیا، اس علاقے میں اور بھی بڑے مندر تھے، ایک گردوارہ تھا لیکن اب تو ان کا نام و نشان بھی باقی نہیں ہے۔‘

بھارت جہاں حال ہی میں میں فرقہ وارانہ انتہا پسندی کےواقعات شہ سرخیاں بن رہے ہیں وہاں پاکستان میں بھی گذشتہ سالوں میں مذہبی بیناد پرستی کا رجحان بڑھتا نظر آ رہا ہے جس کے سب سے زیادہ اثرات پنجاب پر پڑھ رہے ہیں۔

سینکڑوں قدیم مندر جو خطے کی تاریخ اور ورثے کا حصہ ہیں، انھیں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ صوفی درباروں، مندروں اور گردواروں کے اس صوبے میں چھ لاکھ سے زائد ہندو آباد ہیں جن کے لیے اکا دکا مرکزی عبادت گاہیں رہ گئی ہیں۔ اس سے اس کمیونٹی کا اپنے عقیدے اور شناخت کے حوالے سے معاشرے میں احساس تنہائی تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

سنہ 1992 میں بھارت میں بادشاہی مسجد کی تباہ کاری کا مشتعل رد عمل یہاں بھی نظر آیا۔ کئی مندر گرا دیےگئے۔

مبصرین کے مطابق بنیاد پرست مزہبی گروہوں نے مدرسے اور رہائشی کالونیاں تعمیر کیں۔ لاہور میں 300 سال پرانا بھیرواستھان مندر کا توڑا گیا۔ ثقافتی ورثہ قرار دیے جانے کے بعد بھی سنہ 2011 میں بھیرو استھان مندر کا نام مدینہ کالونی رکھ دیا گیا۔

یہاں پارٹیشن کی تلخ یادیں بھی ہیں۔ بعض رہائشیوں نے بتایا کہ انھوں نے سرحد پار ہجرت کر کے ان مندروں میں پناہ لی اور آج تک وہیں ہیں۔

حکومت کی جانب سےنہ ہی مناسب جگہ پر نقل مکانی میں ان کی کوئی مدد کی گئی اور نہ ہی مندر کی بحالی کے لیے کوئی کوشش۔

قدیم عمارات پر لوگوں نے نئی تعمیر کر لی لیکن تاریخ کی مدہم نشانیاں باقی ہیں۔ کسی کی سیڑھیوں پر ان ہندو افراد کے نام کندہ ہیں جنھوں نے مندر کی سیوہ کی تھی جن کو کالی سیاہی سے مٹانے کی ناکام کوشش کی گئی ہے۔

300 سال پرانے مندر کے احاطے میں ایک مسجد تین سال پہلے تعمیر کی گئی تھی۔ بنارس کے بعد کسی زمانے میں لاہور میں مندروں کی سب سے بڑی تعداد تھی۔ اب مندر کھنڈر ہیں اور ان کی جگہ مساجد اور مدرسے ہیں۔

حکومت حال ہی میں ثقافتی ورثوں کے تحفظ کے لیے سرگرم ہوئی ہے اور ملتان میں جین مندر اور چکوال میں کٹاس راج مندر کی بحالی کے لیے کام شروع کیا گیا ہے۔

محکمہ اوقاف کے سربراہ صدیق الفاروق کے مطابق ان کے ادارے کو وسائل کی کمی کا سامنا ہے۔

انھوں نے کہا ’جب تک مندروں کو سنبھالنے اور پوجا کرنے والے ہندو کمیونٹی کے افراد موجود نہیں ہوں گے، ان مندروں کی دیکھ بھال کے حوالے سے ہم انھیں تحفظ نہیں دے سکتے۔‘

ان حالات میں امرناتھ رندھاوہ جیسے ہندو اپنا مندر ایک الماری میں چھپانے پر مجبور ہیں۔ مورتیاں بیچنا اور خریدنا منع ہیں، ایک پلاسٹک کی مورتی اور چند تصاویر ان کی پوجا پاٹ کا سامان ہیں۔

انہوں نے کہا ’بابری مسجد کے بعد تو انتہا پسندی ایسی بڑھ گئی کہ یہاں پر کوئی بھے ہندو اپنے آپ کو ہندو کہتے ہوئے بھی ڈرتا ہے، سب پر ایک خوف طاری ہے۔‘

دوسری جانب مندر بھیرو استھان کی زمین پر تعمیر ہوئے مکان کی چھت سے مندر کے کھنڈر واضع نظر آ رہے ہیں۔

محلے کی نئی تعمیر شدہ مسجد کے سپیکروں سے اذان کی آواز آ رہی ہے۔ چھت پر پاکستان کا پرچم بھی لہرا رہا ہے، جس کی سفید پٹی والے کپڑے کا حصہ پھٹ کر تقریباً الگ ہو چکا ہے۔ پرچم پر لکھا ہے ’جشن آزادی مبارک۔‘