’پارٹی نہیں چھوڑ رہا نہ ہی الطاف بھائی سے کوئی اختلاف ہے‘

Image caption رشید گوڈیل 18 اگست کو کراچی میں ایک قاتلانہ حملے میں شدید زخمی ہوئے جبکہ ان کا ڈرائیور ہلاک ہوگیا تھا

پاکستان کی سیاسی جماعت متحدہ قومی موومنٹ کے رکنِ قومی اسمبلی رشیدگوڈیل نے واضح کیا ہے کہ وہ پارٹی نہیں چھوڑ رہے۔

رشید گوڈیل 18 اگست کو کراچی میں ایک قاتلانہ حملے میں شدید زخمی ہو گئے تھے جبکہ ان کا ڈرائیور ہلاک ہوگیا تھا۔ وہ کئی روز تک وینٹی لیٹر پر رہے۔

ایم کیو ایم رہنما رشید گوڈیل قاتلانہ حملے میں شدید زخمی

صحت یابی کے بعد جمعے کو کراچی پریس کلب میں آمد کے موقعے پر رابطہ کمیٹی کے رکن امین الحق اور وسیم اختر نے اُن کا خیر مقدم کیا۔

اُن کی پریس کانفرنس کی وجہ متحدہ قومی موومنٹ سے مستعفی ہونے والے سابق رکن قومی اسمبلی نبیل گبول بنے۔

نبیل گبول نے سندھ ہائی کورٹ میں جمعے کی صبح کہا تھا کہ ایم کیو ایم چھوڑنے کے بارے میں صرف سوچنے پر رشید گوڈیل پر حملہ کیا گیا، وہ تو ایم کیو ایم چھوڑ چکے ہیں، اس لیے ان کی زندگی کو مزید خطرہ لاحق ہے۔

رشید گوڈیل کا کہنا تھا کہ آج بھی ان کی طبیعت خراب ہے۔’آپ مانیں نہ مانیں، مجھ سے بات نہیں ہوتی، میں تین چار گلاس گرم پانی پی کر آیا ہوں، میڈیا کے لوگ سمجھ دار لوگ ہیں، انھیں دیکھنا چاہیے کون بول رہا ہے اور کیا بول رہا ہے اور اس کا وزن کیا ہے۔‘

رشید گوڈیل کا کہنا تھا کہ ان کے حوالے سے کہا گیا کہ وہ پارٹی قیادت سے اختلافات کی وجہ سے پارٹی چھوڑ رہے ہیں، لیکن ایسی کوئی بات نہیں ہے۔

متحدہ قومی موومنٹ کے رکنِ قومی اسمبلی نے میڈیا سے اپیل کی کہ ان کے بارے میں باتیں منسوب نہ کی جائیں، اگر ایسی کوئی بات ہے تو اس کی ان سے تصدیق کرائی جائے۔

ان کے مطابق ایک سیاسی یتیم اس نوعیت کی باتیں کر رہا ہے اور میڈیا اس کو کوریج دے رہا ہے۔

واضح رہے کہ آئی جی سندھ غلام حیدر جمالی نے تین روز قبل سندھ کابینہ کو آگاہ کیا تھا کہ رشید گوڈیل پر حملے میں ملوث دو ملزمان کو گرفتارکیا گیا ہے۔ انھوں نے ملزمان کی وابستگی اور حملے کی وجوہات تو بیان نہیں کیں صرف اتنا بتایا کہ ایک کو حیدر آباد اور دوسرے ملزم کو کراچی سے گرفتار کیا گیا ۔

رشید گوڈیل نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حملے کو حادثہ قرار دیا۔

اسی بارے میں