پاکستان میں افغان پناہ گزینوں کی امداد میں کمی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان میں اس وقت 15 لاکھ افغان پناہ گزین ہیں جن میں 35 فیصد پناہ گزین کیمپوں میں رہائش پذیر ہیں

یورپ میں شام اور دیگر ممالک سے آنے والے پناہ گزینوں کی تعداد میں اضافے کے بعد اب یورپی ممالک نے پاکستان میں افغان پناہ گزینوں کی مالی امداد کم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے کی اسلام آباد میں ترجمان دنیا اسلم خان نے بی بی سی کو بتایا کہ امدای رقوم میں کٹوتی سے کوئی زیادہ فرق نہیں پڑے گا اور اس پر قابو پانے کے لیے وہ پاکستان اور افغانستان کے علاوہ خلیجی ممالک جیسے متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب سے رابطے کریں گے ۔

اقوام متحدہ کے ادارے کے امور چلانے کے لیے سالانہ 14 کروڑ 70 لاکھ ڈالر درکار ہیں اور اب تک انھیں 40 فیصد بجٹ مل چکا ہے ۔

ترجمان دنیا اسلم خان کے مطابق فنڈز میں یہ کٹوتی صرف پاکستان میں افغانیوں کے لیے نہیں بلکہ یو این ایچ سی آر کے دنیا بھر میں تمام منصوبوں کے لیے ہے اور اس سے چند ایک منصوبے متاثر ہو سکتے ہیں۔

اقوام متحدہ کے مطابق پاکستان نے سب سے زیادہ مہاجرین کو پناہ دی تھی جن میں زیادہ تر افغان ہیں جو 30 سال پہلے نقل مکانی کر کے پاکستان آئے تھے۔ اس وقت پاکستان میں 15 لاکھ افغان پناہ گزین ہیں جن میں 35 فیصد کیمپوں میں اور دیگر شہری علاقوں میں رہائش پذیر ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اقوام متحدہ کے مطابق پاکستان نے سب سے زیادہ مہاجرین کو پناہ دی تھی جن میں زیادہ تر افغان ہیں

یو این ایچ سی آر کے مطابق دنیا بھر میں پناہ گزینوں کی تعداد چھ کروڑ سے تجاوز کر گئی ہے اور حالیہ دنوں میں شام اور دیگر ممالک سے لاکھوں لوگ یورپی ممالک کی طرف ہجرت کر رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کی ترجمان کے مطابق اتنی بڑی تعداد میں انسانی ہجرت کی وجہ سے امدادی ممالک نے اب پناہ گزینوں کے لیے امدادی فنڈ پر کٹوتی کی ہے جس سے پاکستان میں یو این ایچ سی آر کے کچھ منصوبے متاثر ہوں گے۔

دنیا اسلم خان نے بتایا کہ یو این ایچ سی آر افغان پناہ گزینوں کے کیمپوں میں جہاں دیگر سہولیات فراہم کر رہا ہے وہاں صحت اور تعلیم کے منصوبے بھی جاری ہیں ۔

اقوام متحدہ کے بیشتر تعلیمی ادارے پرائمری ایجوکیشن تک ہیں لیکن بعض مقامات پر آٹھویں جماعت تک تعلیم دی جاتی ہے اور اب حالیہ کٹوتی سے مڈل تک تعلیم کے منصوبے متاثر ہوں گے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ اس وقت ایسی صورت حال نہیں ہے کیونکہ جو 40 فیصد فنڈز انھیں ملے ہیں ان سے یہ منصوبے جاری رہ سکتے ہیں اور اگر دیگر ممالک امداد جاری رکھتے ہیں تو پھر یہ منصوبے بھی جاری رہ سکتے ہیں۔

اسی بارے میں