تیزاب گردی، خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم تنظیموں کا اظہار تشویش

Image caption پاکستان میں تیزاب کے حملوں پر کڑی سزائیں دینے سے متعلق سنہ 2011 میں ایک قانون منظور کیا گیا تھا

پاکستان میں تیزاب گردی سے متعلق قانون کے باوجود حال ہی میں کراچی میں چار کیسز سامنے آنے پر خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم تنظیموں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔

نیشنل کمیشن آن دی سٹیٹس آف ویمن یا خواتین کی حیثیت سے متعلق قومی کمیشن کی تین سالہ کارکردگی کے جائزے کے لیے پیر کو کراچی کے ایک مقامی ہوٹل میں سیمینار ہوا جس میں تیزاب گردی اور اس سے متعلق قانون میں کمزوریاں زیر بحث رہیں۔

پاکستان میں تیزاب کے حملوں سے متاثرہ افراد کی مدد کے لیے بنائے گئے ادارے ایسڈ سروائیور فاؤنڈیشن کی ترجمان ویلیری خان نے بتایا کہ ’پاکستان میں سنہ 2014 میں تیزاب گردی کے 143 کیسز سامنے آئے اور اس سال یہ تعداد بڑھی ہے۔تیزاب گردی کے 80 فیصد کیسز پنجاب سے آرہے ہیں لیکن حال ہی میں کراچی سے چار کیس رپورٹ ہوئے۔‘

اس موقع پر حال ہی میں تیزاب کے حملے کا شکار ہونے والی ایک متاثرہ خاتون سدرہ نے آپ بیتی سناتے ہوئے کہا کہ شوہر کماتا نہیں تھا تو انھوں نے ملازمت شروع کی تھی لیکن کام پر جاتے ہوئےصرف چار ماہ ہوئے تھے کہ گلی میں رہنے والے ایک شخص نے ان پر تیزاب پھینک دیا۔

’رمضان میں صبح چھ بجے میں کام پرجارہی کہ وہ سڑک پر آیا اور کہا کہ مجھ سے شادی کرے گی۔ میں نے انکار کیا تو کہنے لگا کہ اگر تم شادی نہیں کروگی تو میں تمہیں کسی بھی لائق نہیں چھوڑوں گا اور میرے منہ پر تیزاب پھینک کر بھاگا مگر محلے والوں نے اسے پکڑ لیا۔‘

انھوں نے بتایا کہ ’میرے چہرے سے اتنا خون بہہ رہا تھا۔سارا چہرہ گل گیا تھا لیکن ہسپتال والوں نے سرجری کیے بغیر پانچ روز کے اندر چھٹی دے دی۔گھر کی چھتیں ٹین کی ہیں اورگرمی کی وجہ سے بہت بے سکون تھی۔‘

بعد میں سدرہ پر تیزاب کا حملہ کرنے والے کے خلاف چالان داخل کرانے اور اس کے علاج معالجے کی ذمہ داری غیر سرکاری تنظیموں عورت فاؤنڈیشن اور ویمن ایکشن فورم نے اٹھائی۔

سدرہ نے بتایا کہ اس واقعے نے ان کی معاشی مشکلات میں مزید اضافہ کردیا ہے۔

پاکستان میں تیزاب کے حملوں پر کڑی سزائیں دینے سے متعلق سنہ 2011 میں ایک قانون منظور کیا گیا تھا۔

نیشنل کمیشن آن دی سٹیٹس آف ویمن کی چیئرپرسن خاور ممتاز نے کہا کہ ’اس قانون کے بہت سے مثبت پہلو ہونے کے باوجود یہ کافی نہیں ہے کیونکہ اس میں ابھی تک تیزاب کی کُھلے عام فروخت کو روکنے اور متاثرہ شخص کی طبی، نفسیاتی اور معاشی بحالی سے متعلق کوئی شق نہیں ہے۔‘

بلوچستان ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج مہتا کیلاش ناتھ کوہلی کا تیزاب گردی سے متعلق قانون سازی میں بنیادی کردار رہا ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ ’تیزاب کے حملے کے بعد متاثرہ شخص کی بحالی کی ذمہ داری حکومت کو دینے سے متعلق قانون منظور نہیں ہوسکا تھا جس کی وجہ سے متاثرہ شخص کو اس کا کوئی فائدہ نہیں مل سکا۔‘

اس موقع پر ڈپٹی اسپیکر سندھ اسمبلی شہلا رضا نے سدرہ کی معاشی مدد کے لیے دس لاکھ روپے دینے کے علاوہ لیاری میڈیکل کالج میں مفت علاج کی پیش کش کی۔ حکومتی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’حکومت نے کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ان چاروں لڑکیوں پر تیزاب پھینکنے والے ملزمان بھی گرفتار ہوگئے ہیں اور گواہی بھی موجود ہے۔اب ہمیں انتظار ہے کہ ان کی سزا کا۔ اب ہمیں اعلی عدلیہ کو دیکھنا ہے کہ انھیں کتنی جلدی انصاف ملتا ہے۔‘

کراچی میں حال ہی میں چار خواتین پر تیزاب کے بعد تیزاب کی فروخت کے لیے لائسننس کا حصول اور متاثرہ افراد کے علاج معالجے سمیت ان کی نفسیاتی بحالی کے لیے حکومتی معاوضے کے لیے مہم میں تیزی آئی ہے۔ اس سلسلے میں جلد از جلد اسمبلی سے تیزاب گردی کے خلاف ایک جامع بل پیش کرکے منظور کرنے کے لیے ایک غیر سرکاری تظیم ’بولو بھی‘ مہم سازی کر رہی ہے۔

اسی بارے میں