’خواجہ سرا الگ صنف نہیں ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں80 ہزار کے قریب خواجہ سرا موجود ہیں (فائل فوٹو)

پاکستان کی اسلامی نظریاتی کونسل کے سربراہ مولانا محمد خان شیرانی نے کہا ہے کہ ملک میں خواجہ سراؤں میں مردانہ صنف زیادہ پائی جاتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ شادیاں کرکے بچے پیدا کرر ہے ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ یہ خواجہ سرا ظاہری شکل کو بناؤ سنگھار کرکے عورت کا روپ دھالیتے ہیں۔

’خواجہ سرا کے خوف سےٹیکس دینے پر تیار‘

’ہمیں تیسری دنیا کہہ کر نظر انداز نہ کریں‘

’خواجہ سراؤں کو میل یا شی میل لکھیں‘

اسلامی نظریاتی کونسل کے 200ویں اجلاس کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ خواجہ سرا الگ صنف نہیں ہیں بلکہ اُنھوں نے کاروبار کے لیے خواتین کا روپ دھار رکھا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ خواجہ سراؤں کی رجسٹریشن سے پہلے اُن کے طبی معائنے کو لازمی قرار دیا جائے اور اگر کوئی اس معاملے میں غلط بیانی کرے تو اُن کے خلاف تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

مولانا محمد خان شیرانی کا کہنا تھا کہ طبی معائنے کی رپورٹ کی روشنی میں اگر اُن میں مرد کی علامات پائی جاتی ہیں تو اُنھیں جائیداد میں مردوں کے برابر حصہ دیا جائے اور اگر اُن میں عورتوں کی علامات زیادہ ہیں تو اُنھیں جائیداد میں وہی حصہ دیا جائے جو عورتوں کے لیے دین اسلام میں کہا گیا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ ان افراد کو خاندان سے کسی طور پر بھی الگ نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی اُنھیں تیسری جنس کے طور پر شناخت دی جاسکتی ہے۔

خواجہ سراہوں کی تنظیم کی سربراہ الماس بوبی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ خواجہ سرا تیسری صنف ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ اگرچہ خواجہ سراہوں کے جسم مردانہ ہوتے ہیں لیکن اُن کی روحیں صنف نازک کی طرح ہیں۔

الماس بوبی کا کہنا تھا کہ اُن کے شناختی کارڈ پر جنس کے خانے میں خواجہ سرا لکھا ہوا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ اگرچہ خواجہ سرا شادیاں بھی کرلیتے ہیں اور اُن کے بچے بھی ہیں لیکن وہ خود کو عورت کی تصور کرتے ہیں۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں80 ہزار کے قریب خواجہ سرا موجود ہیں۔

پاکستانی میڈیا میں اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین کا بیان بھی سامنے آیا ہے جو اُنھوں نےاسی اجلاس کی کارروائی کے دوران دیا تھا جس میں کہا گیا ہے کہ عورتوں کے لیے پردہ اور حجاب کا شرعی حکم ہے تاہم چہرے، ہاتھ اور پاؤں کا پردہ نہ کرنے کی گنجائش موجود ہے۔

اسی بارے میں