’شیوسینا کے ڈی این اے میں پاکستان سے نفرت شامل ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption پیر کو شیو سینا نے پاکستان کے ساتھ کرکٹ کے روابط بحال کرنے کے لیے بات چیت کرنے پر بھارتی کرکٹ بورڈ کے دفتر پر حملہ کیا تھا

بھارت کے شہر ممبئی میں ہندوقوم پرست انتہاپسند جماعت شیوسینا کی جانب سے پاکستانی فنکاروں، ادیبوں اور کھلاڑیوں کے خلاف حالیہ دھمکیوں اور رکاوٹوں پردونوں ملکوں کےصحافیوں نےافسوس اور تشویش کا اظہار کیا ہے۔

بی سی سی آئی ہیڈکوارٹر پر شیو سینا کا دھاوا

’پاکستانی گلوگاروں کو بھارت میں پرفارم کرنے نہیں دیں گے‘

شیوسینا کی دھمکیوں کے بعد علیم ڈار سیریز سے الگ

اسی تناظر میں کراچی اور ممبئی کے صحافیوں نے ایک مشترکہ بیان جاری کیا ہے جس کے مطابق ’شیو سینا کی ڈی این اے میں پاکستان سے نفرت شامل ہے اورہم شیو سینا کی غنڈہ گردی پر شرمندہ ہیں اور یہ بتانا چاہتے ہیں کہ یہ تنظیم نہ ہی ممبئی کے شہریوں کی نمائندہ ہے اور نہ ہی اس کے اقدامات حب الوطنی کی عکاسی کرتے ہیں۔‘

بیان میں لکھا ہے کہ ’ممبئی کے شہری شیو سینا کے تعصب میں حصہ دار نہیں ہیں۔‘

اسی سلسلے میں ممبئی سے بھارتی صحافی جتن دیسائی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’مودی حکومت بننے کے بعد بھارت میں دائیں بازو کے ہندو انتہا پسندوں کا حوصلہ بڑھا ہے اور ان کو لگتا ہے کہ چونکہ حکومت ان کی ہے تو ان کے خلاف کچھ نہیں ہوگا۔‘

ان کا مؤقف تھا کہ ’ہم شیو سینا کو اس کی طاقت سے زیادہ مان رہے ہیں۔ یہ 20،21 لوگ ہیں اوران کی طاقت صرف اتنی ہے کہ وہ منہ پرسیاہی ڈال دیں یا پھر نعرے بازی کرلیں۔‘

جتن دیسائی نے کہا کہ ’شیو سینا کے اقدامات کے خلاف بھارت میں آواز بلند ہورہی ہے اور اب تک قریب 22 معروف ادیبوں نے احتجاجاً اپنے ایوارڈز اور ان کے ساتھ ملنے والی اعزازی رقم سود سمیت حکومت کو واپس کردی ہے۔‘

پاکستانی صحافی فاضل جمیلی نے شیو سینا کے خلاف دونوں ممالک کے صحافیوں کے مشترکہ بیان کواپنی نوعیت کا پہلا مشترکہ بیان قرار دیا۔

انھوں نے بھارت میں ادیبوں کی جانب سے حکومت کو اپنے ایوارڈ واپس کرنے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس ردعمل کے بعد وہاں صورتحال ایک تحریک کی شکل اختیار کرگئی ہے۔انھوں نے صحافیوں کےمشترکہ بیان کو بارش کا پہلا قطرہ قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ دونوں ملکوں کے میڈیا ہاؤسسز اور صحافی تنظیمیں اسکی حمایت کریں گی۔

پاک انڈیا پیس فورم کے اسدبٹ نےاس تمام صورتحال میں میڈیا کو بھی ذمہ دار ٹھراتے ہوئے کہا کہ ’میڈیا تو کاروبار کرتا ہے۔ لوگ بھی اُس رو میں بہہ جاتے ہیں۔مالکان کے اپنے مفادات ہوتے ہیں اور ان کا کسی بھی چیزسے واسطہ نہیں ہوتا۔دونوں ممالک کا میڈیا اپنے اپنے ملکوں میں اقلیتیوں کے ساتھ زیادتی پروضاحتیں اور توجیحات پیش کرنے کی کوششیں کرتا ہے۔‘

اسد بٹ کے خیال میں موجودہ صورتحال کوسنبھالنے میں میڈیا ایک اہم اورمثبت کردار ادا کرسکتا ہے ۔’اس طرح کے حالات کسی کے حق میں بھی بہتر نہیں ہے۔ اس کا نقصان پاکستان کو زیادہ ہوتا ہے چونکہ اس سے ہماری تجارت متاثر ہوتی ہے اور ہمیں اپنے دفاع پر زیادہ پیسہ خرچ کرنا پڑتا ہے جبکہ دوسری جانب ہمارے مسائل اتنے زیادہ ہیں کہ ہم اپنے لوگوں کو پینے کا صاف پانی، روزگار اور مناسب طبی سہولیات نہیں دے سکتے۔‘

بھارتی صحافی جتن دیسائی کے مطابق دونوں ملکوں کی قیادت کے درمیان بات چیت نہ ہونے کی بدولت کہیں نہ کہیں ٹریک ٹو ذریعوں سے ہونے والی سفارت کاری بھی رکی ہوئی ہے ۔ان کے خیال میں جب تک سیکریٹری سطح کی بات چیت نہیں ہوگی تب تک مسائل کا حل نہیں نکلےگا۔

اسی بارے میں