توانائی کے منصوبے، کیا پاکستان لیبارٹری ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ PID
Image caption پاکستان میں بجلی کے بحران کو ختم کرنے کے لیے حکومت نے نئے منصوبے شروع کیے ہیں

وزیرِ اعظم نواز شریف نے سنہ 2018 تک پاکستان کو لوڈ شیڈنگ سے پاک کرنے کا جو عہد کیا ہے اس کی تکمیل کی ایک کڑی کے طور پر انھوں نے گذشتہ دنوں پنجاب میں 1200 میگاواٹ کے بھکی انرجی پلانٹ کی تعمیر کا افتتاح کیا۔

اس پلانٹ میں مائع گیس کے ذریعے بجلی پیدا کی جائے گی۔

مگر موقر پاکستانی اخبار ڈان کی ایک رپورٹ کے مطابق اس منصوبے کو قائم کرنے والی کمپنی قائدِ اعظم تھرمل پاور نے پلانٹ کے لیے جن گیس ٹربائنوں کا آرڈر دیا ہے ان کا وجود کاغذی ہے لہٰذا انھیں اب تک ٹیسٹ نہیں کیا جا سکا۔

چنانچہ ماہرین بنیادی سوال اٹھا رہے ہیں کہ نائین ایچ اے پوائنٹ زیرو ون ٹیکنالوجی پر مبنی بے وجود ٹربائن کی جس عظیم الشان کارکردگی کا دعوی مینوفیکچرر کر رہا ہے اسے ٹیسٹ کیے بغیر قیمت اور کارکردگی کا تعین کیسے ہوسکتا ہے؟

اس کے باوجود اگلے برس تک آٹھ میں سے تین گیس ٹربائن پاکستان پہنچ جائیں گے۔

وزیرِ اعظم کے مشیر برائے امورِ توانائی مصدق ملک نے اس ڈیل کے دفاع میں کہا ہے کہ ہمارے پاس دو ہی راستے ہیں، یا تو ثابت شدہ ٹیکنالوجی زیادہ قیمت میں خریدیں یا پھر نئی اور بہتر کارکردگی کی حامل ٹیکنالوجی کی جانب دیکھیں۔ رسک تو لینا ہی پڑتا ہے۔

اس دلیل پر مجھے ڈینش ادیب ہانز کرسچن اینڈرسن کی وہ شہرہ آفاق کہانی یاد آ رہی ہے جب خوش لباس بادشاہ کو دو ٹھگوں نے قائل کر لیا کہ وہ ایسا انہونا لباس تیار کر سکتے ہیں جو صرف عقل مندوں کو نظر آ ئے گا۔ بادشاہ نے بخوشی کھڈیوں اور دونوں جینئیس جولاہوں کے لیے بھاری رقم مختص کر دی، تاکہ جب وہ تیار ہونے والا خصوصی لباس پہنے تو اسے اندازہ ہو سکے کہ اس کے مشیروں اور رعایا میں کون کون بے وقوف ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption حکومت متبادل ذرائع سے بجلی پیدا کرنے کے دیگر منصوبے شروع کر رہی ہے

مقررہ دن ٹھگ لباس لے کر حاضر ہوئے جو خود بادشاہ کو بھی آنکھیں پٹپٹانے کے باوجود نظر نہیں آ رہا تھا۔ مگر اس نے اس خوف سے کہ لوگ بے وقوف نہ سمجھیں ٹھگوں کو خوب انعام و اکرام دیا اور وہ مال سمیت فوراً چمپت ہوگئے۔ بادشاہ نے تزک و احتشام سے لباس زیبِ تن کیا اور بگھی میں سوار محل سے نکلا۔

درباریوں اور مجمعے کی داد وتحسین نے آسمان سر پہ اٹھا لیا۔ مگر ہجوم میں کھڑا ایک بچہ بول اٹھا: ’بادشاہ تو ننگا ہے۔ بادشاہ نے تو کچھ بھی نہیں پہن رکھا۔‘

بات ایک کان سے دوسرے کان تک پھیلتی چلی گئی اور پھر پورا مجمع چیخ اٹھا: ’بادشاہ ننگا ہے۔‘ تب جا کے بادشاہ کو اندازہ ہوا کہ ٹھگ کیسا چونا لگا گئے۔ تو بعض اوقات ایسی ہوتی ہے ’ ان پروون ٹیکنالوجی‘۔۔۔

مگر یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں۔ کراچی کے قریب 11،11 سو میگاواٹ کے دو جوہری بجلی گھروں کا تعمیراتی کام شروع ہو چکا ہے۔ اس منصوبے پر لگ بھگ دس ارب ڈالر لاگت کا اندازہ ہے (قرضہ بھی چین دے گا)۔ یہ جو ہری بجلی گھر چائنا نیوکلیئر کارپوریشن ڈیزائن کر رہی ہے۔ مگر مشکل یہ ہے کہ اے سی پی ون تھاؤزنڈ ڈیزائن پر بنائے جانے والے ان ایٹمی پلانٹس کی اب تک چین میں بھی آزمائش و تنصیب نہیں کی گئی۔

پاکستان پہلا ملک ہے جہاں یہ ٹیکنالوجی ٹیسٹ ہوگی۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ بغیر آزمائش کے گیس بجلی گھر کو اگر کوئی حادثہ پیش آجائے تو نقصان بہرحال محدود ہوگا لیکن اگر بغیر آزمائش کے جوہری ڈیزائن پر بنے پلانٹ کو خدانخواستہ دو کروڑ آبادی والے شہر (کراچی ) سے صرف 30 کلو میٹر پرے کوئی حادثہ پیش آجائے تو کیا ہوگا؟

اس دنیا میں کوئی بھی ٹیکنالوجی فول پروف نہیں بھلے وہ آزمائی ہوئی ہی کیوں نہ ہو۔ ورنہ چرنوبل، لونگ آئی لینڈ اور فوکو شیما کے جوہری پلانٹس سے تابکاری خارج نہ ہوتی اور لاکھوں لوگوں کو علاقے سے بے دخل نہ ہونا پڑتا۔ کجا یہ کہ غیر ثابت شدہ ٹیکنالوجی کو گنجان آبادی کی دہلیز پر آزمایا جائے!

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ توانائی حاصل کرنے کا سب سے سستا ذریعہ پانی سے بجلی کا حصول ہے

پاکستان میں تو ثابت شدہ ٹیکنالوجی پر قائم نندی پور پاور پلانٹ مکمل ہونے کے باوجود نہیں چل پا رہا۔ اوپر سے لائی جا رہی ہے وہ ٹیکنالوجی جسے ابھی پک کے تیار ہونا ہے مگر اس کے ذائقے کے بارے میں پہلے ہی سے واہ واہ برپا ہے۔

ہاں پاکستان کو بجلی چاہیے مگر گھر کے چراغ سے زیادہ اہم بہرحال زندگی کا چراغ ہے۔ اگر لیگی حکومت اگلے تین برس میں لوڈ شیڈنگ ختم کر بھی دیتی ہے تو عمران خان حکومت کو دباؤ میں رکھنے کے لیے کوئی اور شاخسانہ لے آئیں گے۔ لہٰذا دھیرج اور سہیئم سے کام لیجیے مہاراج۔۔۔ ایسا بھی کیا تتکال کہ آپ ڈرائنگ بورڈ سے ہی جوہری اور غیر جوہری پلانٹ نوچ لائیں۔

مجھے یاد پڑتا ہے کہ جب جاوید اشرف قاضی (سابق آئی ایس آئی سربراہ ) وزیرِ ریلوے تھے تو چین سے جدید ریلوے انجن اور جدید بوگیاں منگوائی گئی تھیں۔ ایک چوتھائی انجنوں کے تلوے میں کریک پڑ گئے اور بوگیاں اتنی چوڑی تھیں کہ کئی ریلوے پلیٹ فارموں کو تڑوا کے چھوٹا کرنا پڑا۔ تو یہ ہوتا ہے اربوں مالیت کے پروجیکٹس کی بین الاقوامی ٹینڈرنگ نہ کرنے کا نتیجہ۔ مگر کچھ لوگوں کے لیے یہی دنیاوی فلاح ہے۔ کون سی نیب ، کیسی پکڑ دھکڑ ، کہاں کا احتساب ۔۔۔

(ارے ہاں میں نے بھی ایک ایسی کار کا ڈیزائن تیار کرلیا ہے جو پٹرول کی بجائے ہوا سے چلتی ہے ۔کہیے تو اسلام آباد کے قریب کہیں پلانٹ لگا دوں۔ بے پناہ قیمتی زرِ مبادلہ بچے گا اور ماحولیات پر بھی کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ سستی بھی ہے۔ ایک پر دوسری مفت۔۔۔۔)۔

اسی بارے میں