سندھ میں بلدیاتی انتخابات، 707 امیدوار بلامقابلہ کامیاب

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں گزشتہ انتخابات کے مقابلے میں گہماگہمی کم نظر آرہی ہے

پاکستان کے صوبہ سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں 707 امیدوار بلامقابلہ کامیاب ہوگئے ہیں۔آٹھ اضلاع میں ساڑھے 14 ہزار کے قریب امیدواروں میں اب مقابلہ ہوگا۔

صوبائی الیکشن کمیشن کے مطابق آٹھ اضلاع کی دو ہزار 333 نشستوں پر 15 ہزار 784 امیدوار تھے جن میں 1300 کے فارم مسترد ہوگئے جبکہ تین ہزار کے قریب امیدوار نامزدگیوں سے دستبردار ہوگئے۔

سکھر سے 39، خیرپور سے 53، گھوٹکی سے 189 ، جیکب آباد سے 128، کشمور سے 118، قمبرسے 50 ،لاڑکانہ سے 38 اور شکارپور سے 92 امیدوار بلا مقابلہ کامیاب ہوچکے ہیں۔جن میں اکثریت حکمران پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدواروں کی ہے۔

سندھ کے آٹھ اضلاع میں 31 اکتوبر کو بلدیاتی انتخابات منعقد کیے جا رہے ہیں، جس میں 46 لاکھ سے زائد ووٹر اپنے ووٹ کا حق استعمال کریں گے جن میں نصف خواتین ہیں۔

بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں گزشتہ انتخابات کے مقابلے میں گہماگہمی کم نظر آرہی ہے، موجودہ وقت سکھر سے 1558 امیدوار، خیرپور سے 2064 امیدوار، گھوٹکی سے 971 ، جیکب آباد سے 625، کشمور سے 609 اور قمبر سے 1309 امیدوار لاڑکانہ سے 1303 اور شکارپور سے 940 امیدوار انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔ان علاقوں میں حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کو کوئی بڑا چیلنج نہیں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سندھ کے آٹھ اضلاع میں 31 اکتوبر کو بلدیاتی انتخابات منعقد کیے جا رہے ہیں

یاد رہے کہ دوسرے مرحلے میں بدین، دادو، حیدرآباد، جام شورو، مٹیاری، میرپورخاص، نوشہرو فیروز، سجاول، سانگھڑ، شہید بینظیر آباد، ٹنڈو اللہ یار، ٹنڈو محمدخان، تھرپارکر ٹھٹہ اور عمرکوٹ میں بلدیاتی انتخابات ہوں گے جبکہ تیسرے اور آخری مرحلے میں کراچی میں انتخابات کا انعقاد ہوگا۔

بلدیاتی انتخابات کے دوسرے اور تیسرے مرحلے میں حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کو مقابلے کی صورتحال کا سامنا کرنا پڑے گا۔ دادو میں سابق وفاقی وزیر لیاقت جتوئی تو دریائے کی دوسری طرف سابق وزیراعظم غلام مصطفیٰ جتوئی کا خاندان میدان میں ہے۔

سانگھڑ اور عمر کوٹ میں مسلم لیگ فنکشنل اور تحریک انصاف، تھرپارکر میں ارباب غلام رحیم اور بدین میں ڈاکٹر ذوالفقار مرزا پیپلز پارٹی کے لیے چئلینج بنے ہوئے ہیں، ماضی کے شدید مخالفین ڈاکٹر ارباب غلام رحیم اور ڈاکٹر ذوالفقار مرزا نے بلدیاتی انتخابات میں اتحاد کر رکھا ہے۔

ٹھٹہ اور سجاول اضلاع میں شیرازی خاندان پیپلز پارٹی کے امیدواروں کا سامنا کر رہا ہے۔ صوبے کے دوسرے بڑے شہر حیدرآباد میں کراچی کے برعکس ایم کیو ایم روایتی انداز میں مستحکم پوزیشن میں موجود نظر آتی ہے۔ قاسم آباد تحصیل میں قوم پرست جماعتوں کے امیدوار بھی مقابلے میں ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بلامقابلہ کامیاب ہونے والوں میں اکثریت حکمران پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدواروں کی ہے

کراچی میں تیسرے مرحلے کے لیے بلدیاتی انتخابات میں متحدہ قومی موومنٹ آزادانہ طور پر انتخابات میں حصہ لے رہی ہے، جس کی کسی جماعت سے کوئی سیٹ ایڈجسٹمنٹ نہیں ہوئی جبکہ دوسری جانب دیگر سیاسی و مذہبی جماعتیں ہیں۔

تحریک انصاف نے جماعت اسلامی کے ساتھ سیٹ ایڈجسمنٹ کی ہے، جماعت اسلامی کراچی کے امیر نعیم الرحمان کے مطابق ان کی جماعت نے اس کے علاوہ جمیعت علما اسلام فصل الرحمان اور پاکستان پیپلز پارٹی سے بھی بعض نشستوں پر سیٹ ایڈجسمنٹ کی ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی نے عوامی نیشنل پارٹی، جمعیت علما اسلام فضل الرحمان کے ساتھ سیٹ ایڈجسمنٹ پر اتفاق کیا ہوا ہے، جبکہ اس کو لیاری میں ناراض کارکنوں اور ملیر میں مقامی اتحاد کا سامنا ہے، یہ علاقے روایتی طور پر پیپلز پارٹی کے ہمدردوں کے علاقے سمجھے جاتے ہیں۔

عوامی نیشنل پارٹی گذشتہ بلدیاتی انتخابات کے مقابلے میں کم سرگرم نظر آتی ہے، پارٹی کے صوبائی صدر شاہی سید کا کہنا ہے کہ ان کے لیے ابھی طالبان ختم نہیں ہوئے۔ انھوں نے نصف شہر میں اپنے امیدوار کھڑے کیے ہیں۔

اسی بارے میں