خیبر ایجنسی کے لیے خصوصی ٹریفک پولیس

Image caption یہ اہلکار بنیادی طور پر لیویز اہلکار ہیں لیکن انھیں ٹریفک کو رواں دواں رکھنے کی تربیت پشاور میں فراہم کی گئی ہے

پاکستان میں وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں پہلی مرتبہ ٹریفک پولیس کو تعینات کیا گیا ہے لیکن اس پولیس کے پاس قبائلی علاقوں کے قانون کے تحت خلاف ورزی کرنے پر جرمانے کی سزا کا اختیار نہیں ہے اس لیے یہ اہلکار صرف انھیں تنبیہ کر سکتے ہیں۔

خیبر پختونخوا کو پشاور کے راستے افغانستان سے ملانے والی اس شاہراہ پر اب ٹریفک پولیس کے اہلکار نظر آتے ہیں۔ کالے شلوار قمیض اور سبز رنگ کی ٹریفک پولیس سے ملتی جلتی وردی پہلے یہ اہلکار ڈرائیوروں کو اپنی لائن میں رہنے کی تاکید کرتے رہتے ہیں۔

یہ اہلکار بنیادی طور پر لیویز اہلکار ہیں لیکن انھیں ٹریفک کو رواں دواں رکھنے کی تربیت پشاور میں فراہم کی گئی ہے ۔

پشاور سے خیبر ایجنسی میں داخل ہوں تو یہ اہلکار اپنی ڈیوٹی پر تعینات ہوتے ہیں۔ ایک اہلکار وارث خان نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں بنیادی تربیت دی گئی ہے ۔

جس میں ٹریفک اشارے، گاڑی کی پارکنگ اور انھیں تیز رفتاری سے روکنے کی تربیت شامل ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض مقامات پر ٹریفک بہت زیادہ ہے اور ان کے آنے کے بعد اس پر بڑی حد تک قابو پا لیا گیا ہے۔

ابتدائی طور پر 20 اہلکاروں کو یہ تربیت فراہم کی گئی ہے جو تحصیل جمرود تک شاہراہ پر تعینات کیے گئے ہیں۔ اس کے بعد جمرود سے لنڈی کوتل اور طورخم تک انھیں تعینات کیا جائے گا اور بعد میں تحصیل باڑہ میں ان کی تعیناتی ہوگی ۔

Image caption پشاور سے خیبر ایجنسی میں داخل ہوں تو یہ اہلکار اپنی ڈیوٹی پر تعینات ہوتے ہیں

پشاور سے طورخم تک کا فاصلہ تقریبا 45 کلومیٹر ہے اور اس شاہراہ کی چند ماہ پہلے مرمت کی گئی ہے ۔ اس شاہراہ پر روزانہ ایک اندازے کے مطابق آٹھ سے دس ہزار گاڑیاں گزرتی ہیں۔ افغانستان میں تعینات نیٹو اور امریکہ کی اتحادی افواج کو سامان کی ترسیل کرنے والی گاڑیاں بھی اس راستے سے گزرتی ہیں۔

مقامی صحافی ابراہیم شنواری نے بی بی سی کو بتایا کہ اس شاہراہ کی مرمت کے بعد اکثر گاڑیاں تیز رفتاری سے گزرتی ہیں جس وجہ سے یہاں متعدد حادثے پیش آئے ہیں جس میں ایک درجن سے زیادہ ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک سال پہلے تک یہ شاہراہ کوئی زیادہ محفوظ نہیں تھی اور اس پر نیٹو کنٹینروں کے علاوہ دیگر گاڑیوں پر متعدد حملے ہو چکے ہیں لیکن اب یہ سڑک کافی حد تک محفوظ ہے اور راستے میں چوکیاں قائم ہیں جو ان اہلکاروں کو بھی تحفظ فراہم کرتی ہیں۔

قبائلی علاقوں کے قوانین میں ٹریفک کے بارے میں کوئی ایسی شق نہیں ہے جس میں ٹریفک قانون کی خلاف ورزی کرنے والے کو جرمانے ک سزا دی جا سکے اس کے لیے حکام کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کی منظوری کے بعد فاٹا سیکریٹریٹ اس بارے میں حکم نامہ جاری کر سکے گا۔

پاکستان کے دیگر قبائلی علاقے جیسے باجوڑ اور مہمند ایجنسی میں بھی لیویز اہلکار ٹریفک کنٹرول کرتے ہیں لیکن انھیں کوئی تربیت فراہم نہیں کی گئی۔

اسی بارے میں