پاکستانی ڈرون کی رات میں پہلی کارروائی،’متعدد ہلاک‘

تصویر کے کاپی رائٹ ISPR
Image caption پاکستانی ڈرون کو قبائلی علاقوں میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائیوں میں استعمال کیا جا رہا ہے

پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ ملک میں تیار کیےگئے ڈرون ’براق‘ کی مدد سے رات کے اندھیرے میں کی گئی پہلی کارروائی میں متعدد شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں۔

آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کیے گئے مختصر بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ کارروائی جنوبی وزیرستان میں کی گئی۔

پاکستانی فوج کا پہلا ڈرون حملہ، تین ہلاک

بیان کے مطابق رات کے اندھیرے میں بھی ڈرون طیارے سے اہداف پر بالکل درست نشانے لگائے گئے۔

فوج کی جانب سے کی گئی ایسی کسی کارروائی کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان نے رواں برس مارچ میں ملکی سطح پر تیار کیے گئے ڈرون ’براق‘ کا کامیاب تجربہ کیا تھا جس سے داغے گئے لیزر گائیڈڈ میزائل نے کامیابی سے اپنے ہدف کو نشانہ بنایا تھا۔

اس کے بعد ستمبر میں پہلی بار فوج نے دعویٰ کیا تھا کہ اس ڈرون کو پاکستان کے قبائلی علاقوں میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائیوں میں استعمال کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ ان قبائلی علاقوں میں امریکی جاسوس طیاروں کے ذریعے شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا آغاز سنہ 2004 میں ہوا تھا جو اب بھی وقفے وقفے سے جاری ہے۔

ایک اندازے کے مطابق اب تک ان حملوں کی تعداد 400 تک پہنچ چکی ہے۔

ان حملوں کے خلاف پاکستان میں احتجاج بھی ہوتے رہے ہیں اور پاکستان سرکاری سطح پر بھی ان حملوں کی مذمت کرتا ہے۔

اسی بارے میں