اظہارِ عقیدت کی جنگی مشق؟

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption محرم کے دوران حکومت کو سکیورٹی پر اضافی کروڑوں خرچ کرنا پڑتے ہیں

یہ کوئی قبل از مسیح کا تذکرہ نہیں یہی کوئی تیس پینتیس برس پہلے کی بات ہے جب عید میلاد النبی کے جلوس میں مقامی مدارس کے علماِ دین ہار پھول پہنے آگے آگے چل رہے ہوتے اور جلوس کی آخری اونٹ گاڑی کے پیچھے پانچ چھ سپاہی ہاتھوں میں چھوٹے ڈنڈے اٹھائے خراماں خراماں رہتے۔

محرم کی مجالس امام بارگاہوں کے علاوہ کھلے میدانوں میں ہونا سالانہ معمول تھا۔کوئی سکیورٹی گیٹ یا کسی محافظ کے ہاتھ میں برقی جھرلو نہیں تھا۔جلوس بھلے زیلی ہو کہ مرکزی آگے پیچھے نو عمر باوردی سکاؤٹس ہاتھوں کی علامتی زنجیر بنائے چلتے۔

عاشورہ پر سکیورٹی الرٹ، متعدد مذہبی رہنما زیرِ حراست

فرقہ وارانہ امن کی رسم

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

بیشتر تعزیے کچھ سنی خاندان نسل در نسل فخریہ بناتے تھے اور جلوس کی راہ میں نیاز و خیرات کا کام اور شربت و ٹھنڈے پانی کی سبیلوں کا اکثر انتظام بھی سنی تاجروں اور نوجوانوں کے ہی ہاتھ میں رہتا ۔

مجالس ایک آدھ گھر کا نہیں پورے محلے کا معاملہ تھیں۔سنّی بچے اور بڑے بھی ان مجالس میں شریک ہوتے بھلے ماتم نہ بھی کریں۔البتہ تبرک بلا امتیاز بانٹا اور لیا جاتا ۔جن بزرگوں کو یہ باتیں بدعت محسوس ہوتیں وہ اپنے اپنے گھروں میں بیٹھ کے ناگواری کا اظہار کرتے اور وہ بھی زیرِ لب۔

ماتم گذاروں کے زخمی ہونے کی خبر تو کہیں نہ کہیں چھپ جاتی۔کہیں کہیں دھینگا مشتی بھی ہو جاتی ۔مگر علاقے کے بزرگ بنا کوئی اعلانیہ امن کمیٹی بنائے ہاتھ کے ہاتھ معاملہ نپٹا دیا کرتے۔ شاید ہی کسی نے سنا ہو کہ کسی جلوس پر فائرنگ ہوگئی، بم پھٹ گیا یا نامعلوم افراد ہلہ بول کے چمپت ہوگئے ۔

مگر جب اس سماج کو ’ضیا بیطس‘ ہوگئی اور دوست ممالک نے باکسنگ میچ کے لیے پاکستان موزوں اکھاڑہ قرار پایا تو سب سے پہلی شہادت رواداری و وسیع المشربی کی بنیاد پر ٹکے عید میلاد النبی اور محرم کلچر کی ہوئی اور کھلے پن کی روایت کے سر پر سینگ نکل آئے ۔

آج صورت یہ ہے کہ ربیع الاول کے اجتماعات اور جلسوں کے لیے بالعموم اور عشرہِ محرم کی مجالس اور جلوسوں کے لیے بالخصوص سرکار کو کروڑوں روپے لگا کے جو پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں وہ جنگی مشقوں سے کسی طور کم نہیں۔

سب سے پہلے نقصِ امن کے قوانین کے تحت خطابت کے پٹرول سے منہ سے آگ کے گولے نکالنے کے ماہر مقرروں کی بین الصوبائی و بین الاضلاحی نقل و حرکت محدود کی جاتی ہے ( اس بار ملک بھر میں تقریباً ڈیڑھ ہزار زاکروں اور مولویوں کی نقل و حرکت محدود کی گئی)۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ساتھ ہی ساتھ لاؤڈ سپیکر کے غلط استعمال ، نفرت انگیز مواد کی تقسیم ، اشتعال انگیز نعروں کی وال چاکنگ، ہوائی فائرنگ اور ہتھیاروں کی کھلے عام نمائش پر 60 دن کے لیے پابندی لگائی جاتی ہے (حالانکہ سب سے بڑے شیعہ ملک ایران اور سب سے بااثر سّنی ملک سعودی عرب بشمول خلیجی ریاستوں میں یہ پابندیاں سال کے بارہ ماہ کے لیے ہوتی ہیں)۔

وہ جلوس جن کے انتظام و تحفظ کے لیے تین عشرے پہلے تک محض مقامی تھانے کی پولیس ہی کافی سمجھی جاتی تھی ۔اب اسی کام کے لیے پنجاب میں ایک لاکھ پولیس والے اور نیم فوجی سپاہی ایڑیوں کے بل کھڑے ہیں۔سندھ اور اس کے دارلحکومت کراچی سمیت صوبے بھر میں 64 ہزار پولیس والے جلسوں جلوسوں کی حفاظت پر معمور ہیں۔

بلوچستان میں صرف کوئٹہ شہر میں ساڑھے سات ہزار پولیس اور فرنٹئیر کور والے یہاں سے وہاں تک گھوم رہے ہیں۔مختلف شہروں کی اہم شاہراہیں ناکہ بند ہیں اور حساس راستوں پر نگاہ رکھنے کے لیے ہیلی کاپٹر اور ڈرونز اڑ رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ہر برس کی طرح محرم میں ہزاروں اضافی سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں

موٹر سائیکل پر ڈبل سواری ملک گیر ہے۔68 سے زائد شہروں میں دو دن کے لیے موبائل فون سروس صبح سے رات تک معطل رہے گی۔انٹرنیٹ سروسز بھی کئی علاقوں میں ڈاؤن گریڈ ہیں۔تمام بڑے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ ہے۔ نجی و سرکاری ایمبولینسوں کے ڈرائیور تیار بیٹھے ہیں۔پس منظر میں فوجی دستوں کو بھی حالتِ خبرداری میں رکھا گیا ہے ( ایسی تیاریاں تو 65 اور 71 کی جنگوں سے پہلے بھی نہ ہوتی تھیں )۔

گو موجودہ حالات میں حکومت نے حتی الوسع امکانی حفاظتی اقدامات کر رکھے ہیں لیکن کیا اس حالت پر اطمینان کا اظہار کیا جائے یا اداسی کا؟

ہاں انہی تین عشروں میں مساجد اور امام بارگاہوں کی تعداد چوگنی ہو چکی۔ عبادت گزاروں کی تعداد بھی پہلے سے تین گنا ہو گئی۔مگر دلوں میں گنجائش پہلے سے چار گنا کس نے کم کر دی؟ خوف تین گنا کیسے بڑھ گیا؟ اظہارِ عقیدت ایک جنگی معرکہ سر کرنے جیسا کیوں ہوگیا؟ کیا سب سے زیادہ جوشیلے اور باایمان مسلمان پاکستان میں ہی بستے ہیں؟

پہلے ان بنیادی سوالوں کا تسلی بخش انفرادی و اجتماعی جواب تلاش کر لیجیے۔

اسی بارے میں