افغان طالبان سے الحاق کی خبریں، ٹی ٹی پی کی بھی تردید

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اگرچہ پاکستان طالبان کسی حملے کی ذمہ داری قبول کرنے میں وقت بظاہر ضائع نہیں کرتے لیکن اتحاد کی خبر کی تردید میں انھوں نے 24 گھنٹوں سے زائد وقت لیا

کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے افغان طالبان کے ساتھ اتحاد کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا اس قسم کے الحاق کا کوئی ارادہ نہیں ہے اور اتحاد سے متعلق بیان ان کی ہیک ای میل سے کسی نے جاری کیا تھا۔

دوسری جانب اس سے قبل افغان طالبان نے بھی کسی اتحاد کی تردید کی تھی۔

افغان طالبان کی پاکستانی طالبان سے اتحاد کی تردید

کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے اعتراف کیا ہے کہ افغان طالبان کے ساتھ اتحاد سے متعلق بیان ان کی ہیک ای میل سے کسی نے جاری کیا تھا۔

بی بی سی کو بھیجی گئی ایک نئی ای میل میں تحریک طالبان پاکستان کے مرکزی ترجمان محمد خراسانی کا کہنا تھا کہ ان کی جنگ پاکستان سے ہے اور امارت اسلامی افغانستان یعنی افغان طالبان کے حوالے سے چلنے والی خبر جھوٹی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی توجہ کا مرکز اب بھی پاکستان ہے۔

اگرچہ پاکستان طالبان کسی حملے کی ذمہ داری قبول کرنے میں وقت بظاہر ضائع نہیں کرتے لیکن اتحاد کی خبر کی تردید میں انھوں نے 24 گھنٹوں سے زائد وقت لیا۔

جمعرات کو محمد خراسانی کے ہی نام سے ایک نئی ای میل کے ذریعے دعوی کیا گیا تھا کہ انھوں نے افغان طالبان کے ساتھ مل کر کارروائیاں کرنے کا اب فیصلہ کیا ہے۔ جعلی بیان میں اس بابت تفصیلی مشترکہ بیان جاری کرنے کا وعدہ بھی کیا گیا تھا۔

بعض تجزیہ نگاروں کے مطابق اس جھوٹی خبر کو پھیلانے کا مقصد اب تک واضح نہیں ہوسکا ہے۔ سینر صحافی رحیم اللہ یوسفزئی کا کہنا تھا کہ یہ پہلے سے واضح تھا کہ افغان طالبان کو یہ قابل قبول نہیں ہوگا کہ پاکستانی طالبان کے ساتھ مل کر وہ پاکستان کو اپنا دشمن بنائیں۔

اسی بارے میں