لواحقین خوف اور غم سے نڈھال

Image caption لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں زلزلے کے بعد چار سے پانچ گھنٹوں میں سینکڑوں ایسے زخمی اور ان کے رشتہ دار دیکھے جو سخت پریشان تھے

مروہ آٹھویں جماعت کی طالبہ تھی، پیر کو سکول سے گھر آ کر کھانا کھانے کے بعد اچانک زلزلے کی وجہ سiہ وہ خوفزدہ ہو کر صحن کی طرف بھاگی جہاں گھر کی دیوار جیسے مروہ کے لیے گھات لگائے کھڑی تھی۔

بڑے بڑے خواب دیکھنے والی معصوم سے بچی مروہ دیوار کے نیچے دب گئی۔ گھر والے مروہ کو مقامی ہسپتال تو لے گئے لیکن مروہ کے سر اور جسم پر شدید چوٹیں آئی تھیں اور اسے سانس لینے میں شدید مشکل پیش آ رہی تھی۔

ملاکنڈ ڈویژن کے شہر درگئی میں ہسپتال میں صحت کی مکمل سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے مروہ کو پشاور لایا گیا۔

مروہ کے چچا عبدالقدیر اسے دو گھنٹے کا طویل سفر طے کرنے کے بعد لیڈی ریڈنگ ہسپتال تو لے آئے لیکن اس وقت تک بہت دیر ہو چکی تھی۔ ڈاکٹروں کی کوشش کے باوجود مروہ اپنے اکھڑی سانسیں بحال نہ کر پائی۔مروہ کو ایک تابوت میں واپس در گئی لے جایا گیا جہاں اس کی تدفین کی جائے گی۔

مروہ کے چچا عبدالقدیر نے بی بی سی سے بات چیت میں صرف مروہ کے ساتھ پیش آنے والے اس واقعے کا ذکر کیا اور بتایا کہ ’مروہ کی ماں اور بہن بھی اسی صحن میں تھے لیکن شاید مروہ کی مزید سانسیں لینا اللہ کو منظور نہ تھیں۔‘

لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں صرف مروہ ہی نہیں بلکہ سو سے زائد زخمیوں کو لایا گیا جبکہ مروہ سمیت تین افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

Image caption خیبر پختونخوا کے بیشتر شمالی علاقوں میں زیادہ نقصان ہوا ان میں دیر، شانگلہ، چترال، سوات اور شامل ہیں جہاں زخمیوں کیکی مشکلات طبی سہولیات نہ ہونے بڑھتی گئیں

ڈپٹی میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر عارف نے بی بی سی کو بتایا کہ چھ کی حالت خطرے میں ہے اور انھیں ایسی اطلاع ہے کہ دیر، سوات، باجوڑ، مردان اور دیگر علاقوں سے مزید زخمیوں کو پشاور لایا جا رہا ہے ۔

باجوڑ اور مردان سے دو ننھے زخمیوں کو بھی لایا گیا جن میں عمریں تین سے چار سال تک بتائی گئیں۔ ان میں سے ایک کے منہ اور ناک سے خون بہہ رہا تھا آنکھیں سوجھی ہوئی تھیں اور رنگ سبز ہو چکا تھا۔ سانسیں ایسی اکھڑی ہوئی تھیں کہ دیکھنے والے پریشان تھے۔ ننھا فرشتہ اچانک خاموش ہوا جس پر ڈاکٹروں کی دوڑیں لگ گئیں اور اس بچے کو فوری طور پر وارڈ منتقل کر دیاگیا۔ لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں زلزلے کے بعد چار سے پانچ گھنٹوں میں سینکڑوں ایسے زخمی اور ان کے رشتہ دار دیکھے جو سخت پریشان تھے لیکن ان میں کمال برداشت تھی۔

زلزلے میں ہلاک ہونے والے ایک نو جوان کی لاش لینے کے لیے آنے والوں میں دو خواتین کو رونے سے یہ کہہ کر منع کر دیا گیا کہ ایسا کچھ نہیں کریں گی بس اللہ کو یہی منظور تھا۔ دونوں خواتین منہ میں کپڑا دے کر خاموشی سے رونے لگیں۔

یہ صورتحال صرف پشاور کے ایک ہسپتال کی تھی دیگر ہسپتالوں میں صورتحال کوئی زیادہ مختلف نہیں تھی۔ خیبر ٹیچنگ ہسپتال اور حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں بھی زخمیوں کو لایا گیا لیکن وہاں زخمیوں کی تعداد قدرے کم رہی۔

خیبر پختونخوا کے بیشتر شمالی علاقوں میں زیادہ نقصان ہوا ان میں دیر، شانگلہ، چترال، سوات اور شامل ہیں جہاں زخمیوں کی تعداد تو کہیں زیادہ

تھی لیکن طبی سہولیات نہ ہونے کے برابر جس سے لوگوں کی مشکلات بڑھتی گئیں۔

پشاور میں تین بڑے ہسپتال اور اگر آرمی کے اور دیگر اداروں کے ہسپتال کو شمار کیا جائے تو ان کی تعداد چھ سے سات تک ہو جاتی ہے ، نجی ہسپتال اس کے علاوہ ہیں لیکن صوبے کے دیگر شہروں میں ایک بھی سرکاری ہسپتال ایسا نہیں ہے جس میں صحت کی مکمل سہولیات دستیاب ہوں۔

اسی بارے میں