زلزلے سے پاکستان میں 206 ہلاکتیں، 1300 سے زائد زخمی

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

پاکستان میں آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے این ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ پیر کو آنے والے زلزلے کے نتیجے میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 206 تک پہنچ گئی ہے جبکہ کم سے کم 1381 افراد کے زحمی ہونے کی اطلاع ہے۔

پاکستان کے زلزلہ پیما مرکز کا کہنا ہے کہ زلزلہ پاکستانی وقت کے مطابق دوپہر 2:09 منٹ پر آیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ زلزلے سے سب سے زیادہ نقصان خیبر پختونخوا کے مالاکنڈ ڈویژن میں ہوا ہے۔

ریکٹر سکیل پر اس زلزلے کی شدت 7.5 تھی اور اس کا مرکز افغانستان میں ہندو کش کا پہاڑی علاقہ تھا جو کہ ڈسٹرکٹ جرم کے جنوب مغرب میں 45 کلومیٹر دور واقع ہے۔ زلزلہ زمین کی گہرائی میں 200 کلومیٹر اندر تک آیا۔ یہی وجہ ہے کہ سطح زمین پر اس نے زیادہ بڑی تباہی نہیں مچائی۔ اس سے قبل سنہ 2005 میں آنے والے زلزلے کا مرکز زمین کے اندر محض 15 کلومیٹر گہرائی میں تھا۔

زلزلے کی تباہی کی چند تصاویر

زلزلے سے خوف زدہ شہری کھلے آسمان تلے

زلزلے سے سب سے زیادہ تباہی خیبر پختونخوا کے علاقے میں ہوئی ہے لیکن پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد سمیت ملک کے مختلف شہروں میں بھی شدید زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔

صوبہ خیبر پختونخوا میں ہوا ہے جہاں مرنے والوں کی تعداد 160 سے تجاوز کر گئی ہے۔ اس کے بعد فاٹا سے کم سے کم 30 افراد کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔خیبر پختونخوا کے وزیرِ صحت شہرام ترکئی کا کہنا ہے کہ سوات، اپر دیر اور لوئر دیر زلزلے سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔

صوبہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلی پرویز خٹک نے زلزلے کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ صوبائی حکومت کسی بھی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔

پاکستان کے صوبے پنجاب کے ریسکیو ذرائع کے مطابق صوبے میں زلزلے کے نتیجے میں پانچ افراد ہلاک اور67 زخمی ہوئے ہیں۔

بی بی سی سے گفتگو میں فاٹا ڈیزاسٹر منیجمنٹ کے ترجمان عادل ظہور نے بتایا کہ قبائلی علاقوں سب سے زیادہ ہلاکتیں اور نقصانات باجوڑ ایجنسی میں ہوئے ہیں جہاں 26 افراد ہلاک ہوئے۔

امداری کارروائیاں

زلزلے کے بعد مرکڑی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئی ہیں۔

پی ڈی ایم اے کے مطابق خیبر پختونخوا کی حکومت نے زلزلے سے متاثہ علاقوں کے لوگوں کے لیےخوراک کے 1000 پیکجز اور 2000 خیمے ، کمبل اور بستر روانہ کیے ہیں۔

پنجاب حکومت نے 10 ہزار خیمے، 10 ہزار کمبل، ایک موبائل ہسپتال، تین میڈیکل ٹیمیں اور 150 امدادی کارکن زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں امداد سرگرمیوں میں حصہ لینے کے لیے روانہ کیے ہیں۔

وزیرِ اعظم کی ہدایت پر سی ڈی اے نے 5 سراغ رساں کتے بھی خیبر پختونخوا بھیجے ہیں تاکہ ملبے تلے زندہ افراد کی تلاش میں مدد دی جا سکے۔

زلزلے میں ہلاکتیں
خیبر پختونخوا 162 ہلاک 1217 زخمی
گلگت بلتستان 8 ہلاک 29 زخمی
قبائلی علاقے 30 ہلاک زخمی59
پنجاب 5 ہلاک 67 زخمی
مجموعی ہلاکتیں 206 1381

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف کو فون کیا ہے اور زلزلے میں ہونے والے نقصان پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

مودی نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ نواز شریف سے ٹیلفونک بات چیت میں انھوں نے زلزلے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور بھارت نے پاکستان کو ہر ممکن تعاون کی پیشکش کی ہے۔

بی بی سی کے پشاور میں نامہ نگار کے مطابق شہر کے مختلف علاقوں میں مکانات کے منہدم ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

پاکستان کے صوبے گلگت بلتسان کے وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ ہنزہ اور نگر کے علاقے میں زلزلے کے بعد مٹی کے تودے گرے ہیں۔

پاکستان فوج کے ترجمان عاصم باجوہ نے کہا ہے کہ پاکستان میں آنے والے زلزلے کے بعد فوج، اور ہیلی کاپٹر حرکت میں آگئے ہیں جبکہ سی ایم ایچ ہسپتال اور ماہر امدادی کارکنوں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں بڑی تعداد میں زخمیوں کو لایا جا رہا ہے