قوم پرست رہنما کچکول علی کے بیٹے نبیل کچکول بازیاب

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption نبیل کچکول گذشتہ سال 30 اگست کو کراچی سے لاپتہ ہوئے تھے

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے سرحدی شہر چمن سے سرکاری حکام نے خود ساختہ جلا وطنی اختیار کرنے والے بلوچ قوم پرست رہنما کچکول علی کے بیٹے نبیل کچکول کو بازیاب کروا لیا ہے۔

حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ نبیل کچکول کو فائرنگ کے تبادلے کے بعد بازیاب کیا گیا۔ خیال رہے کہ نبیل کچکول گذشتہ سال 30 اگست کو کراچی سے لاپتہ ہوئے تھے۔

بلوچستان سے لاپتہ افراد کے رشتہ داروں کی تنظیم وائس فار مسنگ پرسنز اور قوم پرست جماعت بلوچ نیشنل موومنٹ نے حکومتی اداروں پر نبیل کچکول کو جبری طور پر لاپتہ کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔

اس کے برعکس حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ نبیل کچکول کو چمن شہر میں افغانستان کی سرحد کے قریب سے بازیاب کیا گیا۔

چمن میں ایک سینیئر پولیس اہلکار نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ نامعلوم افراد نبیل کچکول کو افغانستان کی سرحد کی جانب لے کر جا رہے تھے۔

اہلکار کا کہنا تھا کہ منگل کو علی الصبح چار بجے لیویز فورس کے اہلکاروں نے افغان سرحد کے قریب بائی پاس پر ایک گاڑی کو رکنے کا اشارہ کیا مگر گاڑی روکنے کی بجائے اس میں سوار مسلح افراد نے لیویز فورس کے اہلکاروں پر فائرنگ کر دی۔

فائرنگ کے تبادلے کے بعد گاڑی میں سوار افراد ایک شخص کو پھینک کر فرار ہوگئے۔

جس شخص کو گاڑی سے باہر پھینکا گیا انھوں نے حکام کو اپنا نام نبیل کچکول بتایا۔

نیبل کچکول، بلوچستان اسمبلی کے سابق قائد حزبِ اختلاف کچکول علی ایڈووکیٹ کے بڑے بیٹے ہیں۔

کچکول علی ایڈووکیٹ تین علحیدگی پسند قوم پرست رہنماؤں غلام محمد بلوچ، لالہ منیر بلوچ اور شیر محمد بلوچ کی سنہ 2009 میں گمشدگی اور چند روز بعد ان کی تشدد زدہ لاشوں کی برآمدگی کے واقعے کے بعد ناروے چلے گئے تھے اور انھوں نے وہاں جلا وطنی اختیار کی تھی۔

کچکول علی ایڈووکیٹ ہلاک کیے جانے والے تینوں رہنماؤں کے وکیل تھے اور تینوں کو نامعلوم مسلح افراد نے ان کے دفتر سے اٹھایا تھا۔

کچکول علی ایڈووکیٹ تاحال ناروے میں مقیم ہیں۔

اسی بارے میں