’قیامت کی ہلکی سی جھلک‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption زلزلے کے نتیجے میں سکیورٹی فورسز کے زیرِ استعمال قلعہ بالاحصار کی ایک دیوار بھی متاثر ہوئی

بس قیامت کا ایک منظر تھا، جو کچھ کتابوں میں قیامت کے متعلق سنا اور پڑھا تھا اسکی ایک ہلکی سی جھلک ضرور محسوس ہوئی۔

گاڑی بھی ہچکولے کھا رہی تھی

اب زلزلے آئے تو کیا کریں؟

زلزے کے ابتدائی جھٹکے جب شروع ہوئے تو میں فوراً کمرے سے نکل کر چھت کے پہلی منزل پر آیا گیا، سوچا کہ تھوڑی دیر کے بعد جھٹکے رک جائیں گے لیکن آ ہستہ آہستہ شدت بڑھتی گئی۔ پھر کیا تھا میں پلک چھپکتے ہی بچے کو ایک ہاتھ میں اٹھا کر نیچے سڑک پر پہنچ گیا تھا اور میری بیوی مجھ سے آگے آگے بھاگ رہی تھی۔

گھر سے باہر آیا تو ہر طرف گلی میں چیخ و پکار، کلمہ طیبہ کا ورد اور لوگوں کے گھروں سے تیزی سے باہر نکلنے کی آوازیں اور دوردرازوں کی بند ہونے کا شور تھا۔

ہمارے گھر کے کونے پر واقع ایک عمارت پر موبائل فون کا لمبا ٹاور نصب ہے زلزلے کے دوران وہ ٹاور اپنی جگہ سے ایسے ہل رہا تھا جیسے کوئی جھولا جھولتا ہو۔ لوہے کے بنے ہوئے ٹاور میں چھوٹے چھوٹے تاروں کے شور سے ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے لوہے کا لمبا ٹاور ابھی گرنے والا ہے۔

زمین ایسی سِرک رہی تھی جیسے کوئی کسی کو ہاتھ سے پکڑ کر اسے زور سے جھٹکے دے رہا ہو اور یہ سلسلہ تین سے چار منٹ تک جاری رہا۔ ایک وقت مجھے ایسا لگ کہ جیسے خدا نخواستہ ہمارے اردگرد تمام عمارتیں بس گرنے والی ہے۔

صوبائی درالحکومت پشاور میں خوف کی کفیت بدستور پائی جاتی ہے، آفٹر شاکس کے خوف کی وجہ سے شام کے وقت مختلف علاقوں میں لوگ دیر تک گھروں سے باہر رہے۔

Image caption زلزلے کے نتیجے میں پشاور میں ہلاکتوں کی تعداد تو کم ہوئی تاہم لاتعداد افراد زخمی ہوئے ہیں جو ہسپتالوں میں زیرغلاج ہیں

پشاور شہر میں جانی نقصانات اتنے زیادہ پیمانے پر نہیں ہوئے جس طرح یہاں زلزلے کی شدت محسوس کی گئی۔

مقامی اور سرکاری ذرائع سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق شہر میں مجموعی طورپر 100 کے قریب گھروں کو نقصان پہنچا ہے جہاں درجنوں کی تعداد میں گھروں کی چھتیں منہدم اور دیواریں گر گئیں۔ پشاور میں پانچ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

اب تک کی اطلاعات کے مطابق زلزلے کی وجہ سے سب زیادہ خیبر پختونخوا کا ملاکنڈ ڈویژن اور قبائلی علاقہ باجوڑ متاثر ہوا ہے۔ مختلف ذرائع سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق سب سے زیادہ جانی نقصان ضلع چترال ، شانگلہ ، آپر اور لوئیر دیر میں ہوا ہے جہاں ساٹھ سے ستر کے قریب افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ مرنے والوں میں بچے اور خواتین شامل ہیں۔

ملاکنڈ ڈویژن کے دیگر آٰضلاع سوات اور بونیر میں بھی بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کی اطلاعات ہیں تاہم دور افتادہ پہاڑی علاقے ہونے کی وجہ ان آضلاع سے جانی و مالی نقصانات کی مکمل رپورٹ سامنے آنے میں مزید وقت لگ سکتا ہے۔

ملاکنڈ ڈویژن میں گھروں کو بھی بڑے پیمانے پر نقصانات ہوئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پشاور کے علاوہ کے پی کے دیگر علاقے بھی متاثر ہوئے، کوہاٹ میں متاثرہ علاقےسےایک منظر

چترال میں مواصلاتی نظام پہلے ہی سے درھم برھم ہونے کی وجہ سے وہاں سے اطلاعات ملنے میں شدید مشکلات کا سامنا رہا ہے۔

زلزلے کے بعد پشاور سمیت کئی علاقوں میں بجلی کی ترسل بند رہی جبکہ موبائل فون سروس اور انٹرنیٹ کی سروس بھی معطل رہی۔ صوبے کے مختلف علاقوں سے بدستور رابطوں میں شدید مشکلات کا سامنا ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ ہلاکتوں اور دیگر نقصانات کی مکمل تفصیلات سامنے نہیں آرہی۔

اسی بارے میں