’زلزلے میں قراقرم ہائی وے 47 جگہوں سے متاثر‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

قدرتی آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے این ڈی ایم اے کے سربراہ اصغر نواز نے کہا ہے کہ پیر کو پاکستان میں آنے والے زلزلے سے چترال کا علاقہ سب سے زیادہ اس لیے متاثر ہوا کیونکہ یہ ہندوکش، جو زلزلے کا مرکز تھا سے 116 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید کے ہمراہ منگل کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ زلزلے کے مرکز کے قریب ہونے کی وجہ سے چترال اور مالاکنڈ کا علاقہ سب سے زیادہ متاثر ہوا۔

زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 248، امدادی سرگرمیاں جاری

پاکستان، بھارت اور افغانستان میں شدید زلزلہ

انھوں نے کہا کہ زلزلے کے دوران ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد میں اضافہ بھی ہوسکتا ہے تاہم ابھی تک یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ اس زلزلے میں ہلاک ہونے والوں میں مرد، عورتوں اور بچوں کی تعداد کتنی تھی؟

اصغر نواز نے کہا کہ سنہ 1900 سے لیکر اب تک اس خطے میں 12,880 زلزلے آ چکے ہیں جن میں سے سات یا اس سے زیادہ ریکٹر سکیل پر آنے والے زلزلوں کی تعداد 41 ہے تاہم اس فہرست میں پیر کو آنے والے زلزلے کو شامل نہیں کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ پیر کو آنے والے زلزلے سے جانی اور مالی نقصان اس لیے کم ہوا کیونکہ اس کی گہرائی زیادہ تھی جبکہ سنہ 2005 میں آنے والے زلزلے کی گہرائی کم تھی۔

این ڈی ایم اے کے سربراہ نے کہا کہ ایک سے لیکر 70 کلومیٹر کی گہرائی تک آنے والے زلزلے زیادہ تباہی مچاتے ہیں۔

قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے کے سربراہ کا کہنا تھا کہ پیر کو آنے والے زلزلے میں قراقرم ہائی وے 47 جگہوں سے متاثر ہوئی جس کے بعد فرنٹئیر ورکس آرگنائزیشن نے متاثرہ حصوں کو مرمت کر لیا ہے جس کے بعد اس کو ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس زلزلے میں متاثرہ اور منہدم ہونے والے مکانات کی تفصیلات اکٹھی کی جا رہی ہیں اور اس ضمن میں صوبائی محکموں کے ساتھ رابطے میں ہیں اور ان سے بھی معلومات بھی حاصل کی جا رہی ہیں

اصغر نواز کا کہنا تھا کہ زلزلے سے متاثر ہونے والے علاقوں میں فوجی کی میڈیکل اور امدای ٹیمیں روانہ کردی گئی ہیں جبکہ ان علاقوں میں راشن بھی پہنچایا جا رہا ہے۔

اسی بارے میں