ہنگامی اجلاس کے بعد وزیراعظم متاثرہ علاقوں کے دورے پر

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption وزیراعظم زلزلے کے وقت لندن میں موجود تھے اور دورہ مختصر کر کے آج ہی وطن واپس لوٹے ہیں

وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف کو صوبہ خیبر پختونخوا میں زلزلے سے سب سے زیادہ متاثرہ علاقے ضلع شانگلہ میں ہونے والی تباہی کے بارے میں بتایا گیا کہ وہاں 49 افراد ہلاک ہوئے اور 1000 گھر مکمل طور پر تباہ ہو گئے۔

وزیر اعظم میاں نواز شریف کی سربراہی میں پیر کے روز ملک بھر میں آنے والے زلزلے کے تقصانات کا جائزہ لینے کے لیے ہنگامی اجلاس ہوا جس کے بعد وزیراعظم زلزلے سے متاثرہ علاقوں کے دورے کے پہلے مرحلے میں شانگلہ پہنچے تھے۔

اب تک زلزلے کے نتیجے میں ملک بھر میں228 ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی ہے۔

فوجی حکام نے بریفنگ میں وزیراعظم کو بتایا ہے کہ ضلع شانگلہ میں گذشتہ شب تک موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ہلاکتوں کی کل تعداد 49 ہو گئی تھی تاہم غیر مصدقہ اطلاعات میں یہ تعداد 57 بتائی گئی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ کہ زلزلے سے تین روز قبل تک یہاں شدید بارشیں ہوئیں اور اب سرد موسم کی وجہ سے سب سے زیادہ ضرورت کمبل اور خیموں کی ہے۔

وزیراعظم کو بتایا گیا کہ زلزلے سے 2000 مکانات کو جزوی طور پر نقصان پہنچا جبکہ 1000 مکانات مکمل طور پر تباہ ہوگئے۔

شانگلہ میں مکمل طور پر تباہ ہونے والے گھروں کے مکینوں کو ایک ایک لاکھ روپے جبکہ جزوری طور پر متاثر ہونے والے گھروں کے مالکوں کو 50، 50 ہزار امداد دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔

بریفنگ میں وزیراعظم کو بتایا گیا کہ شانگلہ میں زلزلے سے تباہ ہونے والے مکانات کے مکین ابھی اپنے عزیزواقارب کے پاس رہ رہے ہیں۔ ان کے لیے خیموں، خوراک اور کمبل کی فراہمی کے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔

اسی بارے میں