خیبر پختونخوا: تاریخی مقامات، عجائب گھروں کو بھی نقصان

Image caption تاریخی مقام گوڑ گٹھڑی میں مشرقی اور مغربی طرف بڑے دروازوں کو نقصان پہنچا ہے

پاکستان میں حالیہ زلزلے سے خیبر پختونخوا کے تاریخی مقامات اور عجائب گھروں کو بھی نقصان پہنچا ہے اور حکام کے مطابق تخت بھائی میں آثار قدیمہ میں دراڑوں کی اطلاعات ہیں۔

2015 اور 2005 کے زلزلے میں فرق

قراقرم ہائی وے 47 جگہوں سے متاثر

قراقرم کے گلیشیئر بھی پھٹ گئے

پشاور میں جہاں ایک طرف 17ویں صدی کے قلعہ بالاحصار کی ایک دیوار کو نقصان پہنچا ہے وہاں تاریخی مسجد مہابت خان کے مینار کا ایک حصہ بھی متاثر ہوا ہے۔

پشاور میں تاریخی مقام گوڑ گٹھڑی میں مشرقی اور مغربی طرف بڑے دروازوں کو نقصان پہنچا ہے اور دیواروں میں دراڑیں پڑ گئی ہیں۔

خیبر پختونخوا کے ڈائریکٹر آثار قدیمہ ڈاکٹر عبدالصمد نے بی بی سی کو بتایا کہ صوبے میں تخت بھائی کے مقام پر بین الاقوامی سطح کے آثار قدیمہ کو نقصان پہنچا ہے جہاں موجود بدھا سے متعلق دیواروں میں دراڑیں پڑ گئی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مردان میں جمال گڑھی میں ایسے آثار قدیمہ ہیں جو بین الاقوامی آثار قدیمہ کی فہرست میں شامل کی جائے گی وہاں بھی نقصانات ہوئے ہیں ۔

Image caption خیبر پختونخوا میں کوئی 6000 کے لگ بھگ تاریخی مقامات ہیں

خیبر پختونخوا میں ایک درجن کے لگ بھگ عجائب گھر ہیں۔ پشاور کے عجائب گھر میں اسلام گیلری کے سیکشن میں نقصانات ہوئے ہیں جبکہ چترال اور بھمبھوریت کے عجائب گھر میں دیوراوں کو نقصان پہنچا ہے اور وہاں رکھے گئے نوادرات کے شو کیس بھی ٹوٹ گئے ہیں۔

ڈاکٹر عبدالصمد کے مطابق انھیں خدشہ ہے کہ سوات میں تاریخی مقامات اور آثار قدیمہ کو زیادہ نقصان پہنچا ہوگا جہاں ایک تو زلزلے کی شدت زیادہ تھی اور دوسرا وہاں بڑی تعداد میں تاریخی مقامات ہیں۔

سوات میں عجائب گھر کی عمارت کو نقصان پہنچا ہے جبکہ آثار قدیمہ کو پہنچنے والے نقصانات کے بارے میں ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جو موقع پر جاکر تفصیلات فراہم کریں گے ۔

سوات میں جہاں آباد کے مقام پر بدھا کو کچھ عرصہ پہلے ایک دھماکے میں نقصان پہنچا تھا جس کی مرمت کا کام اٹلی کے ماہرین کی مدد سے کیا جا رہا ہے لیکن حالیہ زلزلے سے اس کو کوئی نقصان پہنچا ہے یا نہیں اس بارے میں اب تک تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

ڈاکٹر عبدالصمد کے مطابق جہاں آباد کا علاقہ دور ہے اور اس کے لیے ٹیمیں تشکیل دی جا چکی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ان آثار قدیمہ کو اصلی حالت میں بحال کرنے کے لیے جہاں ایک طرف فنڈز درکار ہوں گے وہاں اس کے لیے عالمی سطح پر ماہرین کی بھی ضرورت ہوگی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption زلزلے سے متاثرہ پشاور کا قلعہ بالاحصار

خیبر پختونخوا میں کوئی 6000 کے لگ بھگ تاریخی مقامات ہیں جن میں چند ایک کو عالمی سطح پر بھی جانا جاتا ہے۔

اسی بارے میں