’امداد پہنچنے میں دیر ہوئی تو بہت نقصان ہو سکتا ہے ‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption وزیر اعظم نواز شریف نے آج پشاور اور چترال کا دورہ کیا ہے جہاں انھوں نے متاثرین کے لیے امداد کے اعلانات کیے ہیں

خیبر پختونخوا کے ضلع چترال میں جہاں حالیہ زلزلے سے بڑے پیمانے پر ہلاکتیں اور تباہی ہوئی ہے وہاں ایک ایسا گاؤں بھی ہے جہاں 70 سے 80 فیصد مکان مکمل تباہ ہوگئے ہیں لیکن کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ۔

مقامی افراد کے مطابق شروع کے چند سیکنڈ میں زلزلے کی شدت کم تھی جس کی وجہ سے لوگوں کو گھروں سے باہر نکلنے کا موقع مل گیا۔

اس گاؤں میں پہاڑوں سے اب بھی دھواں نکل رہا ہے اور لوگ اب امداد کے منتظر ہیں۔

اس گاؤں کا نام ہے چرون اویر اور یہ چترال شہر سے تقریباً 75 کلومیٹر دور اپر چترال میں بھونی کے قریب واقع ہے۔

اس گاؤں میں کل 140 مکان تھے جن میں سے 90 مکان مکمل تباہ ہوئے جبکہ باقی مکانات کو جزوی نقصان پہنچا ہے اور ان میں سے رہائش کے قابل مکان کم ہی بچے ہیں۔

چرون اویر میں کوئی جان نقصان نہیں ہوا لیکن زلزلہ اس قدر شدید تھا کہ سارا گاؤں اجڑ گیا ہے۔

ایک مقامی شخص عنایت اللہ بیگ نے بی بی سی کو بتایا کہ بڑی تعداد میں لوگ اب مقامی جماعت خانے میں پناہ لیے ہوئے ہیں ۔

ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے خود اپنا مکان دو سال پہلے 12 لاکھ روپے خرچ کر کے تعمیر کیا تھا۔

اس گاؤں میں اب تک صرف 50 خیمے پہنچے ہیں باقی لوگوں تک کوئی امداد نہیں پہنچائی گئی۔

عنایت اللہ بیگ نے بتایا کہ علاقے میں موسم سرد ہے اور اگر امداد پہنچنے میں تاخیر ہوئی تو لوگوں کی مشکلات بڑھ جائیں گی۔

ان کا کہنا تھا کہ بچے خواتین اور بوڑھے اس سرد موسم میں خیموں میں گزارہ نہیں کر سکتے اگر امداد پہنچنے میں دیر ہوئی تو بہت نقصان ہو سکتا ہے ۔

مقامی لوگوں نے بتایا کہ اس گاؤں کے قریب پہاڑوں سے اب بھی دھواں نکلتا ہے اور خوف کی یہ حالت ہے کہ لوگ اپنے خستہ حال مکانات کے اندر داخل بھی نہیں ہوتے۔

اسی طرح خیبر پختونخوا کے ضلع بونیر میں تقریباً 280 مکان مکمل تباہ ہوئے اور کوئی 550 مکانات کو جزوی نقصان پہنچا ہے ۔

بونیر کے ضلعی پولیس افسر خالد ہمدانی نے بی بی سی کو بتایا کہ لوگوں کو خیمے فراہم کیے گئے ہیں اور کچھ متاثرین کو سرکاری عمارتوں میں پناہ فراہم کی گئی ہے ۔

اسی بارے میں