یوحنا آباد حملے کے 20 ملزمان پر فردِ جرم عائد

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption یوحنا آباد میں بیک وقت دو چرچوں پر خودکش حملوں میں 20 افراد ہلاک ہوئے تھے

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں انسدادِ دہشتگردی کی خصوصی عدالت نے یوحنا آباد کے چرچ حملوں کے بعد مشتعل ہجوم کی جانب سے دو افراد کو زندہ جلائے جانے کے مقدمے میں 20 ملزموں پر فرد جرم عائد کردی ہے۔

مسیحی آبادی کی پر ہونے والے حملے

یوحنا آباد حملوں میں ملوث دہشت گرد ہلاک

لاہور میں انسدادِ دہشتگردی کی خصوصی عدالت کے جج محمد قاسم نے مقدمے کی سماعت کی۔

عدالت کے روبرو تھانہ نشتر کالونی حکام نے 20 ملزمان کے خلاف چالان پیش کیا تھا۔

حتمی چالان میں کہا گیا تھا کہ 20 ملزموں نے یوحنا آباد چرچ دھماکوں کے بعد دو معصوم شہریوں بابر نعمان اور محمد نعیم کو تشدد کرکے جلادیا تھا۔

حتمی چالان میں پولیس کی جانب سے 20 ملزمان کو قصوروار قرار دیا گیا ہے۔

دوران سماعت تمام ملزمان نے صحت جرم سے انکار کیا۔ تاہم عدالت نے ان پر فرد جرم عائد کرکے آئندہ سماعت پر گواہان کو طلب کرلیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption حتمی چالان میں کہا گیا تھا کہ 20 ملزموں نے یوحنا آباد چرچ دھماکوں کے بعد دو معصوم شہریوں بابر نعمان اور محمد نعیم کو تشدد کرکے جلادیا تھا

رواں سال 15 مارچ کو لاہور کی عیسائی آبادی کی قیام گاہ یوحنا آباد میں اتوار کے روز بیک وقت دو چرچوں پر خودکش حملے کیے گئے تھے۔ جس میں 15 افراد ہلاک جبکہ 70 کے قریب زخمی ہوگئے تھے۔

دھماکوں کے فوراً بعد مشتعل افراد نے دو افراد کو حملہ آور ہونے کے شبہے میں تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد آگ لگا دی تھی۔

دھماکوں اور دوافراد کے زندہ جلائے جانے کے بعد یوحنا آباد میں کئی دن تک صورتحال کشیدہ رہی اور شہر میں مذہبی فسادات کا خطرہ پیدا ہوگیا تھا۔

اسی بارے میں