’عمران خان ہمیشہ معصوم رہے گا‘

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption یہ انٹرنیٹ پر پاکستانی ٹرینڈز کی ایک تصویری جھلک ہے جس میں ایک جانب کردار کشی تو دوسری جانب عمرام خان سے ہمدردی کی اپیلیں نمایاں ہیں

آج پاکستان جہاں دو دن قبل ایک بڑے زلزلے کے نتیجے میں ہزاروں افراد بے گھر اور امداد کے منتظر ہیں، سب سے بڑی خبر ایک اہم سیاسی شخصیت کی طلاق ہے اور دنیا بھر میں ٹوئٹر پر سب سے زیادہ زیرِ بحث موضوع یہی ہے۔

یعنی دنیا کے ان کروڑوں لوگوں کو جن میں سے کئی نے ریحام کا نام تک نہیں سنا ہو گا اپنے ٹوئٹر ٹائم لائن کے بائیں جانب ریحام خان کا نام لکھا نظر آ رہا ہو گا۔

اس ٹرینڈ پر کلک کریں تو آپ کو بہت سے ناخوشگوار تبصرے تجزیے اور طنزیہ کمنٹس اور ٹویٹس پڑھنے کو ملیں گی۔

پاکستانی ٹوئٹر کے مطابق یہ سب یک طرفہ ہے صرف اور صرف عورت ذمہ دار ہے جس کا نام ریحام خان ہے۔

اور بہت سے ایسے ہیں جن کے لیے حکمراں جماعت کی خواتین کو اس بحث میں گھسیٹ کر لانا اہم ہے۔

ریحام خان اور مریم نواز شریف کی کردار کشی سے پُر ٹویٹس اور جمائما خان کے لیے حلالے کے منصوبے یہ سب پاکستانی سوشل میڈیا ہی نہیں ٹی وی چینلز پر بھی زیرِ بحث ہے۔ سینئر صحافی ہنگامی بنیادوں پر سارا دن ٹی وی چینلز پر اس طلاق کے پوشید حقائق منظرِ عام پر لانے میں لگے رہے جبکہ باقی اس کے اسرار و رموز پر گہری نظر رکھے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

کالم نگار یاسر پیرزادہ نے لکھا کہ ’عمران خان کہتا ہے کہ ان کے دل میں ریحام کے اخلاقی کردار لیے بہت زیادہ عزت ہے۔ لگتا ہے کہ خواتین کو اشرافیہ میں بھی مردوں سے کردار کے سرٹیفیکیٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور کب ٹرول اوئے ریحام خان کا ٹرینڈ شروع کر رہے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

فاران رفیع نے لکھا کہ ’خواتین پر طعن و تشنیع کرنا اور اُن کی کرداکشی کو ہمارا قومی کھیل قرار دے دیا جانا چاہیے۔‘

حنا مہر ندیم نے لکھا ’خان ہمیشہ کے لیے معصوم رہے گا۔ پہلے ساری توپوں کا رخ جمائما کی جانب تھا اب ریحام خان کی جانب ہے۔ ہم سب اُن آنٹیوں کی طرح ردِ عمل دکھا رہے ہیں جو ہمیشہ لڑکیوں کو طلاق کا ذمہ دار قرار دیتی ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

فریال اشفاق نے ٹویٹ کی کہ ’عمران خان نے تو بہت کوشش کی مگر ریحام عزت کے لائق ہی نہیں تھی۔‘

اور حلیمہ خان جو اپنی ٹویٹ لکھتی ہیں ’میں عمران خان کے خاندان سے تعلق رکھتی ہوں اور میں یہ بتا دو کہ ریحام کبھی بھی اس خاندان میں فِٹ نہیں آ سکتی تھی۔ اُن کا طرز زندگی بہت مختلف تھا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

عثمان کا خیال ہے کہ ’جمائما سے ہم سب محبت کرتے ہیں اور میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں وہ مخلص ہیں مگر جو گیا سو گیا۔ میں انہیں واپس اکٹھے دیکھنا چاہتا ہوں۔‘

ارشد علی راؤ نے لکھا کہ ’دوسروں کی ذاتی زندگیوں میں کود کراُن کی ماں بہن ایک کرنےوالوں کو، آج دنیا طلاق پر کوس رہی ہےتو یہ مکافات عمل ہے اخلاقیات نہیں۔‘

اسی بارے میں