’ریحام خان اب بھابھی نہیں رہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

عمران خان اور ریحام خان میں طلاق کے فیصلے کے اعلان کے بعد پاکستان میں ریحام سب سے اوپرٹرینڈ کر رہا ہے۔

عمران خان نے ٹویٹ کی کہ ’یہ میرے، ریحام اور ہمارے خاندانوں کے لیے دکھ کا مرحلہ ہے۔ میں سب کو ہماری پرائیویسی کے احترام کی درخواست کرتا ہوں۔ میرے دل میں ریحام اور ان کے اخلاق اور کردار کی بہت زیادہ عزت ہے اور ان کے اس عزم کی کہ وہ غیر مراعات یافتہ طبقوں کی مدد کرنا چاہتی ہیں۔‘

عمران خان نے یہ بھی کہا کہ ’ہماری طلاق کے حوالے سے مالی معاہدے اور اس پر قیاس آرائیاں جھوٹی اور شرمناک ہیں۔‘

اس کے جواب میں سندھ اسمبلی کی سپیکر شہلا رضا نے ٹویٹ کی کہ ’اگر یہ ذاتی معاملہ ہے تو پی ٹی آئی کا ترجمان کیوں اس خبر کا اعلان کر رہا ہے؟‘

انھوں نے طلاق کے مالی معاملات کے بارے میں بھی دعویٰ کیا جو پاکستانی میڈیا پر بڑے پیمانے پر زیرِ بحث ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption طلاق کے فیصلے کا اعلان ریحام خان نے ٹوئٹر پر کیا

عمران خان اور پی ٹی آئی کے حامیوں کی جانب سے اس پر ملا جلا ردِ عمل آیا ہے۔ جہاں ایک جانب لوگ اس پر ریحام خان کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں وہیں بعض اسے عمران خان کی مقبولیت کے لیے چیلنج قرار دے رہے ہیں۔

عدنان ابن اسد نے ٹویٹ کی کہ ’عمران اور ریحام کی طلاق کا سن کر دکھ ہوا۔ طلاق کا فیصلہ اور اس کی وجوہات شاید ضرورت سے زیادہ سنسی خیز ہیں مگر عمران کی مقبولیت خطرے میں ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

حسنین راج نے ٹویٹ کی کہ ’ریحام خان ایک انتہائی خوبصورت خاتون ہیں۔ میں طلاق کے فیصلے پر بہت افسردہ ہوں، مگر یہ اُن کی زندگی ہے آحر دوسرے اُن کی زندگی میں کیوں دخل دیں؟‘

سید اسجد نے ٹویٹ کی کہ ’ریحام خان بھابھی اب بھابھی نہیں رہیں۔ یہ تب ہوتا ہے جب آپ ایک خاتون کو سیاست میں دخل دینے سے منع کرتے ہیں۔‘

اسی طرح پاکستانی سوشل میڈیا پاکستان ٹوڈے کے مدیر اور سینیئر صحافی عارف نظامی کے تعریفوں سے بھرا ہوا ہے جنھوں نے یہ خبر بریک کی تھی اور انھیں پی ٹی آئی کے حامیوں او سوشل میڈیا پر شدید تنقید کو گالیوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

عمران خان اور ریحام خان نے اس کی تردید کی تھی اور اس کے بعد پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا اور عمران خان کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے ان کی خوشگوار موڈ میں کئی تصاویر اور ویڈیوز جاری کی گئیں۔

ان سے دیے جانے والے تاثر کے باوجود عارف نظامی نے اپنی خبر پر قائم رہنے کا فیصلہ کیا تھا۔

اسی بارے میں