خیبر پختونخوا میں زلزلہ متاثرین تاحال امداد کے منتظر

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حکام کے مطابق تباہ ہونے والے مکانات کی تعداد اب 25800 تک پہنچ گئی ہے

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں جوں جوں راستے کھل رہے ہیں وہاں تباہی کے آثار بھی نمایاں ہو رہے ہیں۔

صوبے بھر میں مزید ڈھائی ہزار مکانات کی تباہی کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

آئندہ چند روز میں متاثرہ علاقوں میں بارش اور برف باری کی پیشنگوئی بھی گئی ہے۔

دس سال بعد اکتوبر میں ایک اور زلزلہ: خصوصی ضمیمہ

شانگلہ میں مکانات تباہ، مکین بے آسرا: ویڈیو رپورٹ

’لڑکے کی ہلاکت پر دل دکھ رہا ہے‘

متاثرہ افراد کا کہنا ہے کہ بڑی تعداد میں لوگ اب بھی امدادی سامان سے محروم ہیں۔حکام کے مطابق تباہ ہونے والے مکانات کی تعداد اب 25800 تک پہنچ گئی ہے اور اس کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ راستے کھلنے کے بعد ان علاقوں تک بھی رسائی مل رہی ہے جہاں سرکاری اہلکار پہلے پہنچ نہیں پائے تھے۔ گذشتہ روز یہ تعداد 23390 بتائی گئی تھی۔

سب سے زیادہ مکان چترال میں تباہ ہوئے ہیں جن کی تعداد 8300 ہے یہاں بڑی تعداد میں لوگوں تک اب تک امدادی سامان نہیں پہنچ سکا۔

مقامی صحافی شاہ مراد بیگ نے بی بی سی کو بتایا کہ چترال میں دور دراز کے علاقے تو چھوڑیں ڈپٹی کمشنر کے دفتر کے قریب واقع دیہات میں بھی سامان نہیں پہنچایا جا سکا۔

اُن کے مطابق سردی بڑھ گئی ہے اور ایک خیمے میں آٹھ سے 10 افراد کا گزار مشکل ہے۔ جہاں آگ بھی نہیں جلائی جا سکتی۔

چترال میں چار ماہ پہلے سیلاب سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی تھی جس سے متاثرہ افراد اب تک مشکل صورتحال میں ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حکومت نے متاثرہ افراد کو امدادی رقم فراہم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ عمل پانچ روز میں مکمل کیا جائے گا

سوات میں چھ ہزار کوہستان میں تین ہزار مکانات تباہ ہوئے ہیں۔ کوہستان میں 50 افراد ہلاک اور بڑی تعداد میں لوگ زخمی ہوئے ہیں۔ کوہستان سے مقامی صحافی سرفراز خان نے بی بی سی کو بتایا کہ اب تک مختلف رابط سڑکیں نہیں کھولی جا سکی ہیں اس لیے نقصانات کا مکمل اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔

ان کا کہنا تھا کہ چند ایک یونین کونسلز میں نقصانات بہت زیادہ ہوئے ہیں لیکن وہاں بھی ابتدائی ریلیف نہیں پہنچائی جا سکتی لوگ سارا سارا دن امداد کا انتظار کرتے رہتے ہیں اور شام کو خالی ہاتھ واپس چلے جاتے ہیں۔

الپوری سے مقامی لوگوں نے بتایا کہ رات کے وقت موسم انتہائی سرد ہو جاتا ہے اور خیموں میں رہنا مشکل ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ انھیں کہا جاتا ہے کہ حکومت سروے کر رہی ہیں لیکن جب تک سروے نہیں ہو گا کیا وہ سردی میں مرنے کے لیے بیٹھے رہیں۔

محکمہ موسمیات نے اتوار سے شمالی علاقوں میں بارش اور برف باری کی پیش گوئی کی ہے ۔ ان علاقوں میں سردی بڑھ جانے سے ان لوگوں کی مشکلات میں اضافہ ہوگا جو خیموں یا دیگر مقامات پر پناہ لینے پر مجبور ہیں۔

حکومت نے متاثرہ افراد کو امدادی رقم فراہم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ عمل پانچ روز میں مکمل کیا جائے گا۔ ریلیف پیکج کے تحت ہلاک ہونے والے افراد کے لواحقین کے لیے چھ چھ لاکھ، زخمیوں کو ایک سے دو لاکھ اور گھروں کو دوبارہ تعمیر کرنے کے لیے دو دو لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا ہے۔

اسی بارے میں