بلدیاتی الیکشن: ’پنجاب میں مسلم لیگ ن، سندھ میں پیپلز پارٹی کی برتری‘

فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ afp
Image caption پولنگ کا عمل صبح ساڑھے 7 بجے سے شام ساڑھے 5 بجے تک بغیر کسی وقفے کے جاری رہے گا

پاکستان کے سرکاری ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ صوبہ پنجاب اور سندھ کے 20 اضلاع میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے ابتدائی نتائج کے مطابق دونوں صوبوں میں حکمران جماعتیں ہی ان انتخابات میں آگے دکھائی دے رہی ہیں۔

سنیچر کو بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں پنجاب کے 12 اضلاع اور سندھ کے آٹھ اضلاع میں کروڑوں ووٹرز نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔

پولنگ کا عمل صبح ساڑھے سات بجے شروع ہوا جو شام ساڑھے پانچ بجے تک بغیر کسی وقفے کے جاری رہا۔

صوبہ پنجاب میں تو پولنگ کا عمل کم و بیش پرامن رہا تاہم صوبہ سندھ کے ضلع خیرپور میں انتخابی مخالفین میں تصادم کے نتیجے میں 11 افراد ہلاک ہو گئے۔

بی بی سی کے نامہ نگار حسن کاظمی نے ضلع خیرپور کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر پیر محمد شاہ کے حوالے سے بتایا ہے کہ یہ تصادم مسلم لیگ فنکشنل اور آزاد گروپ سچل سرمست کے حامیوں کے درمیان جونیجو پولنگ سٹیشن پر ہوا۔

اس کے علاوہ سکھر، گھوٹکی ، جیکب آباد ، کشمور ، قمبر شہداد کوٹ ، لاڑکانہ ، اور شکارپور میں بھی انتخابی عمل کے دوران پولنگ سٹیشنوں کے باہر ہونے والے جھگڑوں اور تصادم میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔

نامہ نگار کے مطابق ابتدائی نتائج کے مطابق سندھ میں جن آٹھ اضلاع میں پولنگ ہوئی وہاں پاکستان پیپلز پارٹی کو برتری حاصل ہے جبکہ اس کے کئی امیدوار پہلے ہی بلامقابلہ بھی منتخب ہو چکے ہیں۔

سندھ کے ضلع لاڑکانہ میں پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پہلی بار اپنا ووٹ ڈالا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ضلع خیرپور میں انتخابی مخالفین میں تصادم کے نتیجے میں 11 افراد ہلاک ہو گئے

سندھ کے کئی پولنگ سٹیشنوں سے انتخابی عملہ دیر سے پہنچنے اور سامان بھی دیر سے آنے کی شکایات بھی ملیں۔

الیکشن کمیشن کے مطابق سندھ کے آٹھ اضلاع سے مجموعی طورپر 92 شکایات موصول ہوئی ہیں جن کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق ملک کے دو صوبوں کے 20 اضلاع میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے غیرحتمی اور غیر سرکاری ابتدائی نتائج کے مطابق صوبہ پنجاب میں مسلم لیگ نواز اور سندھ میں پیپلز پارٹی کو برتری حاصل ہے۔

پاکستانی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ پنجاب میں بڑی تعداد میں آزاد امیدوار بھی کامیاب ہوئے ہیں۔

پنجاب پولیس کے مطابق پولنگ کے دوران لڑائی جھگڑے اور ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی پر مختلف شہروں میں نو افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

لاہور پولیس کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ لاہور میں تین افراد کو پولنگ سٹیشن میں اسلحہ لے جاتے ہوئے گرفتار کیا گیا جبکہ لڑائی جھگڑے میں ملوث دو افراد کو ساہیوال اور چار کو قصور سے گرفتار کیا گیا۔

دونوں صوبوں میں بلدیاتی انتخابات کے پر امن انعقاد کے لیے سکیورٹی فورسز کو ہائی الرٹ کیا گیا اور پولیس اور رینجرز کے دستے سکیورٹی کے فرائض انجام دیتے رہے۔

Image caption لاہور کے علاقے بیدیاں میں انتخابی گہماگہمی

پنجاب

پنجاب کے جن اضلاع میں پولنگ ہوئی ان میں لاہور، فیصل آباد، گجرات، چکوال، بھکر، ننکانہ صاحب، قصور، پاکپتن، اوکاڑہ، لودھراں، ویہاڑی اور بہاول نگر شامل ہیں۔

پنجاب میں 3551 پولنگ سٹیشنوں کو انتہائی حساس قرار دیا گیا جن میں سے سب سے زیادہ فیصل آباد میں تھے۔

حزبِ اختلاف کی جماعتوں کی طرف سے مسلسل مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ صوبے میں شفاف بلدیاتی انتخابات کے لیے پولنگ سٹیشنوں پر فوج تعینات کی جائے۔

بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے کے لیے پنجاب میں رجسڑڈ ووٹروں کی تعداد دوکروڑ 85 ہزار 329 ہے۔

Image caption بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے کے لیے پنجاب میں رجسڑڈ ووٹروں کی تعداد دوکروڑ 85 ہزار 329 ہے

سندھ

صوبے سندھ کے آٹھ اضلاع میں ساڑھے 14 ہزار کے قریب امیدواروں میں مقابلہ ہوا۔

سندھ کے آٹھ اضلاع سکھر، خیرپور، گھوٹکی، لاڑکانہ، شکارپور، جیکب آباد، کشمور اور قمبر شہدادکوٹ میں ووٹ ڈالے گئے۔

سکھر سے 1558 امیدوار، خیرپور سے 2064 امیدوار، گھوٹکی سے 971 ، جیکب آباد سے 625، کشمور سے 609 اور قمبر سے 1309 امیدوار لاڑکانہ سے 1303 اور شکارپور سے 940 امیدوار انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔

ان علاقوں میں حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کو کوئی بڑا چیلنج نہیں ہے۔

اسی بارے میں