’صحافیوں پر حملہ آپ کے حق پر حملہ ہے‘

Image caption اسلام آباد میں درجنوں اخبارات، جرائد، ریڈیو ٹی وی چینلوں کے لیے کام کرنے والے سینکڑوں صحافیوں میں سے یہ چند احتجاج کے لیے پہنچے

پیر کو اقوام متحدہ کی جانب سے صحافیوں کے خلاف بلا مواخذہ جرائم کے خاتمے کا عالمی دن منایا جا رہا ہے، جس کے حوالے سے عالمی صحافتی تنظیموں نے پاکستان کو صحافیوں کے لیے خطرناک ترین ممالک میں سے ایک قرار دیا ہے۔

اینڈ امپیونٹی EndImpunity# کے نام سے ایک مہم اور ہیش ٹیگ انٹرنیٹ پر نمایاں ہے جسے اقوامِ متحدہ ہے کے ادارے یونیسکو نے شروع کیا ہے۔

اس موقعے پر اسلام آباد پریش کلب کے سامنے ایک صحافتی تنظیم نے احتجاج کی کال دی جس میں میڈیا کے نمائندوں سمیت 20 کے قریب افراد نے شرکت کی جبکہ پریس کلب کے اندر ایک اور تنظیم کے لوگ اسی موقعے پر خوش گپیوں میں مصروف لاتعلق نظر آئے اور پاکستانی میڈیا چند خبریں نشر کرنے کے بعد معمول کی نشریات پر رواں دواں رہا۔

صحافیوں کو درپیش ایک انتہائی اہم مسئلے پر ساتھیوں کی عدم دلچسپی کا شکوہ تمام احتجاجی صحافیوں نے کیا۔ صحافی عبدالشکور نے کہا ’کاش یہاں زیادہ لوگ ہوتے تاکہ انھیں پتہ چل سکتا کہ ہم اُن کے حقوق کے لیے لڑ رہے ہیں۔‘

اس موقعے پر حامد میر کمیشن، سلیم شہزاد کمیشن اور حیات اللہ کمیشن کی رپورٹیں منظر عام پر لانے کا مطالبہ بھی کیا گیا جس کے بارے میں صحافی عبدالشکور نے بتایا کہ ’چیف جسٹس سے زیادہ طاقتور کون ہو گا؟ اس وقت حاضر سروس چیف جسٹس اگر رپورٹ جاری نہیں کر سکتے تو یہ میرے خیال میں ہمارے سب کے لیے لمحۂ فکریہ ہو گا۔‘

یاد رہے کہ صحافیوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی عالمی تنظیم کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس کا کہنا ہے کہ 1992 کے بعد سے پاکستان میں 56 صحافیوں کو ہلاک کیا گیا ہے جن میں سے 94 فیصد مقدمات میں جرم بلامواخذہ رہا جبکہ چھ فیصد میں جزوی انصاف فراہم کیا گیا۔

ماضی قریب میں صرف ایک صحافی ولی خان بابر کے قتل کے مقدمے کا فیصلہ نامساعد حالات میں سنایا گیا جس کے مجرموں کو سزا ملنا ابھی باقی ہے۔

مگر سوال یہ ہے کہ پاکستان میں صحافیوں کو درپیش بڑے خطرات کیا ہیں؟

صحافی اسد ملک نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’ایک تو یہ ہے کہ خفیہ ایجنسیاں صحافیوں کی بہت زیادہ نگرانی کرتی ہیں۔ آپ کی نقل و حرکت یہاں تک کے آپ کے موبائل فون ٹیپ ہو رہے ہوتے ہیں۔ سب سے زیادہ بڑا خطرہ تو ان سے ہے۔‘

اس کے علاوہ اسد ملک نے بتایا کہ حکومت سے جان کا خطرہ تو نہیں ہوتا مگر ’وہ یہ کرتے ہیں کہ آپ کو ملازمت سے برخاست کروا دیتے ہیں اور ایسی مثالیں موجود ہیں۔ اس کے علاوہ شدت پسند تنظیمیں یا غیر ریاستی عناصر ہوتے ہیں ان سے بہت زیادہ خطرہ درپیش ہوتا ہے۔‘

صحافی اور اینکر مطیع اللہ جان نے کہا کہ ’حیات اللہ کے قاتل بھی گرفتار نہیں ہوئے، سلیم شہزاد کے قاتل بھی نہیں گرفتار ہوئے، پاکستان میں اگر ہم صحافیوں نے اپنے ساتھیوں کے لیے آواز نہ اٹھائی اور ان کے قاتلوں کی گرفتاری کے لیے احتجاج نہ کیا تو یاد رکھیں کہ کل تو وہ صحافی تھے جو آج اس دنیا میں نہیں، اس کے بعد ہم سب کی باری بھی آ سکتی ہے۔‘

صدف خان نے ٹویٹ کی کہ ’صحافیوں پر حملہ آپ کی معلومات تک رسائی کے حق پر حملہ ہے۔ اپنے حقوق کے لیے کھڑے ہوں۔‘

صحافیوں کے قتل اور ہلاکتوں کے مقدمات پاکستان بھر میں مختلف تھانوں اور عدالتوں میں زیر سماعت ہیں اور اب تک ولی خان بابر قتل کیس کے علاوہ کم ہی ایسے کوئی کیس ہیں جن میں فیصلہ سامنے آیا ہو۔

پاکستانی میڈیا اپنی بھر پور طاقت کے باوجود اس معاملے میں بے بس نظر آتا ہے۔

اسی بارے میں