عوامی مقامات پر خواتین کو محفوظ بنانے کی مہم

Image caption یہ مہم کراچی سے شروع ہو کر لاہور تک پہنچی اور آج اسلام آباد میں مہم کی بانی نے بائیں بازو کی جماعت عوامی ورکرز پارٹی کے ساتھ مل کر خواتین کے حقوق کے حوالے سے مکالمے میں حصہ لیا

گرلز ایٹ ڈھاباز سوشل میڈیا پر چلنی والی ایسی مہم ہے جس کا مقصد عوامی جگہوں یا مقامات کو خواتین کے لیے محفوظ مقام بنانا ہے۔

یہ مہم کراچی سے شروع ہو کر لاہور تک پہنچی اور آج اسلام آباد میں مہم کی بانی نے بائیں بازو کی جماعت عوامی ورکرز پارٹی کے ساتھ مل کر خواتین کے حقوق کے حوالے سے مکالمے میں حصہ لیا۔

اسلام آباد کے ایف سکس سیکٹر کے جوبلی پارک میں شام کا وقت ہے جہاں ایک جانب لڑکے کرکٹ کھیل رہے ہیں، دوسری طرف کچھ طلبہ کالج کا کام کر رہے ہیں۔

پارک کے بیچ گرلز ایٹ ڈھاباز نامی مہم کی بانی سعدیہ کھتری 20 افراد کے اجتماع سے خطاب کر رہی ہیں۔ کچھ ماہ قبل سوشل میڈیا پر چلنے والی مہم گفتگو کا موضوع تو بنی ہوئی ہے، لیکن خاص متوسط طبقے میں۔

سعدیہ کھتری کا خیال ہے کہ خواتین اس لیے عوامی مقامات میں کم نظر آتی ہیں کیونکہ ایک تاثر ہے کہ ان کے خلاف تشدد گھر سے باہر زیادہ ہوتا ہے۔

انھوں نےاس تاثر کو کو رد کرتے ہوئے کہا: ’جب ہم ریپ یا خواتین کے خلاف تشدد کی بات کرتے ہیں تو اعداد و شمار کہتے ہیں کہ یہ زیادہ تر گھروں کے اندر ہوتا ہے۔ یہ وہ لوگ کرتے ہیں جو متاثرہ خواتین کے جاننے والے ہوں۔ خواتین اکثر اس لیے نہیں باہر نکلتیں کیونکہ تاثر یہ ہے کہ سڑکیں غیر محفوظ ہیں۔ لیکن یہ غلط ہے۔‘

عالیہ امیر علی عوامی ورکرز پارٹی کی اہلکار ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سیاسی جماعتیں خواتین کے حقوق کے بارے میں بات نہیں کرتیں جس کی وجہ سے ان کی جماعت نے اس مہم کو آگے بڑھانے کے لیے اس مکالمے کا انعقاد کیا۔

’ہم سمجھتے ہیں کہ یہاں ایسا نظام ہے جہاں مختلف طبقات ہیں، جس میں امیر اور غریب ایک طرح سے مختلف دنیا میں رہتے ہیں۔ اسی طرح مرد اور عورت بھی دو مختلف دنیا میں رہتے ہیں۔ مردوں کو جن چیزوں کی اجازت ہے، جو اختیارات حاصل ہیں، جو مراعات ان کو ملتی ہیں وہ صرف ان کے لیے ہیں اور جو پابندیاں، بندشیں اور رکاوٹیں ہیں وہ صرف خواتین کے لیے ہیں۔‘

Image caption عوامی ورکرز پارٹی کے رکن، سول سوسائٹی کے نمائندوں کے علاوہ، پاس کچی آبادی کی خواتین بھی اس مکالمے میں شریک تھیں

ان کا مزید کہنا تھا کہ خواتین کو رکاوٹوں کا سامنا ہے لیکن تبدیلی اس وقت تک نہیں آئے گی جب تک پدری نظام کے اسباب کو تلاش کر کے تبدیلی نہیں لائی جاتی۔

عوامی ورکرز پارٹی کے ایک اور اہلکار عمار رشید نے کہا کہ حقوقِ نسواں کی جدوجہد کو سیاسی نظر سے دیکھنا چاہیے۔ عام طور پر اس کو ایک سماجی مسئلے کے طور پر سمجھا جاتا ہے۔

’خواتین کی حیثیت اور عوامی مقامات پر ان کی موجودگی، وسائل اور طاقت کا مسئلہ ہے اور اسی لیے یہ سیاسی مسئلہ ہے۔ کس جنس کے پاس کیا اخیارات ہیں اس معاشرے میں اوراس میں طبقات کا کیا کردار ہے اور اس کی کیا بنیادیں ہیں؟‘

احمد نیازی کا تعلق عمل نامی غیر سرکاری تنظیم سے ہے، جو مردانگی پر تحقیق کر رہی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ تشدد صرف خواتین کے خلاف نہیں ہوتا، مردوں کو بھی 70 فیصد تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اسی لیے مردوں کو مردانگی کی مثبت تعریف اور تصورات کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔

’مردوں پر بھی دباؤ ہے، ان پر بھی بہت سی پابندیاں ہیں۔ مرد اپنی مردانگی کو ثابت کرنے کے لیے کیا نہیں کرتا۔ وہ خود پر پڑنے والے دباؤ کو اپنے گھر والوں پر نکالتا ہے۔ تو مردانگی کا اظہار مثبت طریقے سے کرنا چاہیے۔‘

عوامی ورکرز پارٹی کے رکن، سول سوسائٹی کے نمائندوں کے علاوہ، پاس کچی آبادی کی خواتین بھی اس مکالمے میں شریک تھیں۔

ان میں ایک پروین یونس ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انھیں کئی بار عوامی مقامات پر ہراساں کیا گیا اور اس ذہنیت کا مقابلہ کرنے کے لیے ماؤں کو اپنی بیٹیوں کو تربیت دینی چاہیے کیونکہ مرد تو تنگ ہی کرتے ہیں۔

پروین یونس کا کہنا ہے کہ لڑکیاں اگر سر ڈھانپ کر سڑکوں پر نکلیں تو شاید انھیں کم تنگ کیا جائے۔

اسی وجہ سے سعدیہ کھتری کہتی ہیں کہ اس مہم کو آگے بڑھانے کے لیے مڈل کلاس طبقے سے نکل کر پروین جیسی خواتین کی رائے اور شمولیت ضروری ہے کیونکہ اس کے بغیر یہ مہم محدود رہے گی۔

اسی بارے میں