کراچی آپریشن کا نیا مرحلہ پولیس، وکلا کے ٹارگٹ کلرز کے خلاف

فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption رینجرز نے ایک اعلامیے میں عوام سے اپیل کی ہے کہ پولیس، وکلا اور گواہوں پر حملے میں ملوث دہشت گردوں، اجرتی قاتلوں اور ان کے سہولت کاروں کے حوالے سے مدد کریں

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں جاری ٹارگٹڈ آپریشن کے اگلے مرحلے میں رینجرز نے قانون نافذ کرنے والے اداروں بالخصوص پولیس، وکلا اور گواہوں پر حملے میں ملوث دہشت گردوں، اجرتی قاتلوں اور ان کے سہولت کاروں کو گرفتار کرنے کا اعلان کیا ہے۔

کراچی میں تقریباً ڈھائی سال قبل ٹارگٹ کلنگز، بھتہ خوری، فرقہ وارانہ شدت پسندی اور اغوا برائے تاوان کی وارداتوں میں اضافے کے بعد آپریشن کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ اس آپریشن میں وفاقی حکومت نے سرحدی فورس رینجرز کو مرکزی کردار دیا تھا۔

کراچی بار کے صدر نعیم قریشی کا کہنا ہے کہ ڈی جی رینجرز نے کرنل شاہد کو فوکل پرسن مقرر کیا تھا اور انھیں ہلاک ہونے والے وکلا کی ذاتی اور مقدمات کی تفصیلات فراہم کر دی ہیں اور امید کرتے ہیں کہ رینجرز ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچانے میں اپنا کرداد ادا کرے گی۔

شہر میں آپریشن کے آغاز کے ساتھ ہی پولیس پر حملوں میں اضافہ ہوا، اس عرصے میں 256 افسر اور اہلکاروں کی ہلاکت کے واقعات پیش آئے ، پولیس کے اعداد و شمار کے مطابق 2013 میں 50، 2014 میں 128 اور رواں سال 78 اہلکار ہو چکے ہیں۔

گذشتہ پانچ سالوں میں کراچی میں نو وکلا قتل کیے گئے ہیں، جس میں 2011 میں ایک، 2012 میں تین، 2013 میں دو، 2014 میں دو اور رواں سال ایک وکیل کو نشانہ بناکر قتل کیا گیا ہے۔

رواں سال 28 اگست کو حسن سکوائر پر فائرنگ سے ایڈووکیٹ سید امیر حیدرشاہ کے قتل کے بعد وکلا نے عدالتی کارروائی کے بائیکاٹ کے علاوہ ڈائریکٹر جنرل رینجرز کے دفتر کے باہر دھرنا بھی دیا تھا۔

وکلا رہنماؤں سے ملاقات کے دوران ڈی جی رینجرز میجر جنرل بلال اکبر نے انھیں تحفظ فراہم کرنے اور ملزمان کے خلاف کارروائی کی یقین دہائی کرائی تھی۔ جس کے دو ماہ کے بعد یہ اعلان سامنے آیا ہے۔

رینجرز نے ایک اعلامیے میں عوام سے اپیل کی ہے کہ پولیس، وکلا اور گواہوں پر حملے میں ملوث دہشت گردوں، اجرتی قاتلوں اور ان کے سہولت کاروں کے حوالے سے مدد کریں اور اس حوالے سے رینجرز ہیلپ لائن لائن پر اطلاع دی جائے۔

سپریم کورٹ میں کراچی بدامنی کیس کے فیصلوں کے تحت سندھ حکومت نے گواہوں کے تحفظ کا قانون لانا تھا لیکن ابھی تک یہ قانون سامنے نہیں آ سکا ہے۔

اسی بارے میں