گھر واپسی مگر ناراضگی برقرار

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سرکاری وکیل نے جو حرکت کی ہے وہ عجیب و غریب اور سرکاری پالیسی کے منافی ہے: فاروق ستار

پاکستان کی سیاسی جماعت متحدہ قومی موومنٹ کے اراکین کے استعفوں کی واپسی کے دوسرے روز ہی حکومت سے تعلقات میں تلخی پیدا ہوگئی ہے۔

ایم کیو ایم پارلیمانی لیڈر ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا ہے کہ لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے الطاف حسین کی تقریر اور تصویر پر عائد پابندی کے کیس کی سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران سرکاری وکیل نے جو موقف اختیار کیا ہے اس سے وفاقی حکومت کا دوہرا معیار اور منافقت ظاہر ہوتی ہے۔

استعفے واپس

الطاف حسین کو 81 سال قید کی سزا

ڈاکٹر فاروق ستار نے منگل کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انھیں وفاقی حکومت کے وزرا کی جانب سے مذاکرات میں یہ باور کرایاجارہا ہے کہ الطاف حسین پر مقدمے کو غداری کے زمرے میں نہیں لیا جارہا ہے اور نہ ہی وہ ان کا میڈیا پر بلیک آؤٹ چاہتے ہیں لیکن دوسری جانب نجی پٹیشن کو جواز بنا کر سرکاری وکیل نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ یہ بیان ’ہائی ٹیرازم ‘ کے زمرے میں آتا ہے۔

’اگروفاقی حکومت سمجھتی ہے کہ الطاف حسین کا کوئی بیان یا ایم کیوایم کا کوئی بیان ریاست پاکستان کے برخلاف زمرے میں آتا ہے تو سامنے آکر الطاف حسین اور ایم کیوایم پر غداری کا مقدمہ بنایاجائے ہم اس کا عدالت میں سامنا کرنے کیلئے تیار ہیں۔‘

ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا تھا سرکاری وکیل نے جو حرکت کی ہے وہ عجیب و غریب اور سرکاری پالیسی کے منافی ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار سے جو ان کا معاہدہ سائن ہوا اس کے تحت ان کے سینیٹرز سینٹ میں واپس چلے گئے اور قومی اسمبلی کے اراکین بھی چھ نومبر کے اجلاس میں شریک ہو رہے ہیں لیکن سپریم کورٹ میں سرکاری وکیل نے جو کچھ کیا ہے یہ تعلقات کو خراب کرنے جمہوری عمل کو غیر مستحکم کرنے ور مفاہمت کو خراب کرنے کا عمل ہے۔

’اس عمل سے حکومت کی آئین، سیاسی اورجمہوری عمل داری پر سوال پیدا ہوگیا ہے کہ موصوف سرکاری وکیل حکومت کی پالیسی پر چل رہے ہیں یا کہیں اور سے ڈکٹیشن لے رہے ہیں۔‘

انھیں وفاقی حکومت کے وزرا نے مذاکرات میں یہ یقین دلایا تھا کہ سرکاری وکیل سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ میں یہ مؤقف اختیار کرے گا کہ حکومت الطاف حسین ہوں یا کوئی سیاسی رہنما ہو پیمرا کے ذریعے سے اسے ریگولیٹ کرے گی اور حکومت کا الطاف حسین کے خطاب، انٹرویو، اظہار خیال اور اظہار رائے کی آزادی پر پابندی لگانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

ڈاکٹر فاروق ستار نے وزیراعظم سمیت وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس معاملے میں اپنی پوزیشن کو واضح کریں تاکہ وہ اپنا آئندہ کا لائحہ عمل طے کرسکیں۔

اسی بارے میں