سرد موسم نےزلزلہ متاثرین کی زندگی مشکل بنا دی

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption زلزلے کے متاثرین کا کہنا ہے کہ ان کی بچے آنے والی سردی برداشت نہیں کر سکتے

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں بارشوں اور برف باری سے متاثرین کی مشکلات بڑھ گئی ہیں۔

خیموں میں رہائش پذیر بڑی تعداد میں لوگ اپنے رشتہ داروں کے ہاں منتقل ہو گئے ہیں۔

چترال میں گدلا پانی اور بے سروسامانی

زلزلہ، سردی اور بغیر چھت کے سکول

ضلع چترال میں پیر کی رات سے شدید بارشوں اور برف باری سے لواری ٹنل بند کر دی گئی تھی جس سے درجنوں گاڑیاں راستے میں پھنس گئی ہیں۔

محکمہ موسمیات کے حکام کے مطابق زلزلے سے متاثرہ شمالی علاقوں میں بدھ تک بارشوں اور برف باری کا سلسلہ جاری رہے گا ۔

منگل کی صبح کچھ دیر کے لیے مطلع صاف ہوا اور اس دوران ٹنل کھولنے کی کوششیں کی گئی تھی۔

چرون اویر سے عنایت اللہ نامی شخص نے بتایا کہ بچے اور خواتین یہ سردی برداشت نہیں کر سکتے۔

ان کا کہنا تھا کہ انھیں اگر کمبل فراہم کردیے جائیں تو کم سے کم وہ بچوں کو ان میں لپیٹ کر وہ کسی حد تک سردی کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ایک ہفتے سے زیادہ وقت ہوگیا ہے ان کے گاؤں کے140 مکان بری طرح متاثر ہوئے ہیں جو رہنے کے قابل نہیں ہیں اور ان کے مکان میں بہت تھوڑی امداد فراہم کی گئی ہے ۔

متاثرہ افراد کا کہنا ہے کہ کہیں پر لوگوں کو امداد ملی ہے اور کوئی اس امداد سے محروم رہا ہے ۔

چترال مستوج کے قریب ایک گاؤں گوہکیر سے اکرام الدین نے بتایا کہ ان کے گاؤں شیداغ ، کاہرو ، زنگوشال اور دیگر علاقوں میں سرکاری اہلکار سروے کے لیے نہیں آئے۔

اکرام الدین نے بتایا کہ ان کے گاؤں میں پینے کے لیے پانی نہیں ہے اور وہ کھارا اور گدلہ پانی پینے پر مجبور ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سرد موسم کی وجہ سے زلزلے سے متاثرہ افراد کا خیموں میں زندگی گزارنا مشکل ہوگیا

انھوں نے کہا کہ ان کا گاؤں چند ماہ پہلے سیلاب سے متاثر ہوا تھا اور رہی سہی کسر نئے زلزلے نے پوری کر دی ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ انھیں یہاں حکومت نام کی کوئی چیز نظر نہیں آ رہی۔

دروش سے شربت خان نامی شخص نے بتایا کہ وہ، ان کے بھائی اور والدین سب ایک ہی مکان میں رہتے تھے۔

اب ان کے مکان کے تین کمرے تباہ ہو گئے ہیں اور انھیں ایک ادارے کی جانب سے کچھ امداد تو فراہم کی گئی پہ لیکن ان کے ساتھ بہت برا سلوک کیا گیا ہے۔

شربت خان نے بتایا کہ جب انھیں خیمے فراہم کیے گئے تو انھیں کہا گیا تھا کہ انھوں نے سفارش کرائی ہے۔

انھوں نے امدادی کارکنوں کو بتایا کہ لوگوں نے ان کا تباہ شدہ مکان خود دیکھا تھا۔

شربت خان نے بتایا کہ انھیں رونا آتا ہے کہ ان کے اور ان کے بھائی کے بچے دو خیموں میں رہتے ہیں جن کی تعداد 15 تک ہے۔

انھوں نے کہا کہ علاقے کے کوچھ لوگ ان کے والد اور والدہ کو رات کے وقت اپنے گھر لے جاتے ہیں۔

شانگلہ، دیر جیسے زلزلے سے متاثرہ دیگر قبائلی علاقوں میں بھی صورتحال انتہائی ابتر ہے ۔

حکومت کی جانب سے پیر کے روز آنے والے زلزلے میں ہلاک ہونے والے افراد کے لواحقین کو چھ چھ لاکھ روپے فراہم کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے ۔

حکام کے مطاق متاثرہ افراد کو امداد بھی فراہم کی جا رہی ہے لیکن جن علاقوں میں زلزلہ آیا ہے وہاں خیموں سے سردی کا مقابلہ نہیں کیا جا سکتا۔

لوگوں نے بتایا کہ متاثرہ افراد اپنے رشتہ داروں کے ہاں دوسرے علاقوں میں منتقل ہو رہے ہیں لیکن یہ افراد یہی سوال تھا کہ وہ رشتہ داروں کے پاس کب تک رہیں گے۔

مقامی افراد کا کہنا تھا کہ حکومت کو ہنگامی بنیادوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے اور جن لوگوں کے مکان تباہ ہوئے ہیں یا زلزلے سے متاثر ہوئے ہیں انھیں فوری طور مرمت کرنے کے انتظام کیے جائیں۔

متاثرہ افراد کا کہنا تھا کہ شدید سردی میں خیموں میں کیسے گزارا کریں اور 20 کلوگرام کا راشن 10 افراد کے خاندان کے لیے کہاں پورا ہوتا ہے۔

اسی بارے میں