صرف تشہیر پر پابندی یا کارروائیوں پر بھی؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption کالعدم تنظیموں کا اپنا ایک متوازی میڈیا ہے جہاں سے وہ جہاد کی ترویج کرتے ہیں

حکومت پاکستان نے بظاہر بین الاقوامی دباؤ کے تحت بعض بھارت مخالف تنظیموں اور ان کے فلاحی اداروں کی قومی میڈیا میں کوریج پر پابندی عائد کر دی ہے۔ لیکن بعض ماہرین کے خیال میں ان تنظیموں کا اپنا متوازی میڈیا اتنا وسیع ہے کہ انھیں کسی قومی میڈیا کی ضرورت ہی نہیں۔

پاکستان میں شدت پسند تنظیموں کا میڈیا افغانستان میں سویت یونین کی مداخلت کے دوران پنپتا رہا۔ افغان ’مجاہدین‘ اور دیگر تنظیمیں اپنے اخبارات، رسائل، ویب سائٹوں، پمفلٹوں اور سی ڈیز کے ذریعے اپنے موقف اور سوچ کا پرچار کرتی رہی ہیں۔

پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف پیس سٹڈیز کی ایک تحقیق کے مطابق ان تنظیموں کو نہ نجی شعبے میں قائم الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر اعتبار تھا اور نہ ہی سرکاری میڈیا پر۔ اسی وجہ سے یہ تنظیمیں اپنا متوازی میڈیا تشکیل دینے کے لیے ایک عرصے سے سرگرم ہیں۔

الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی پیمرا کے اعلان کے مطابق تمام ٹی وی چینل اور ریڈیو سٹیشن پابند ہیں کہ وہ کالعدم تنظیم لشکرِ طیبہ، جماعت الدعوۃ اور فلاحِ انسانیت فاؤنڈیشن سمیت 72 کالعدم تنظیموں کی کوریج نہ کریں۔

ان تنظیموں کی فنڈنگ کے لیے میڈیا پر کسی بھی قسم کے اشتہارات چلانے کو بھی ممنوع قرار دیا ہے۔ لیکن پیمرا کا اعلان اس بات کا اعتراف بھی ہے کہ جماعت الدعوۃ دراصل کالعدم لشکر طیبہ کا نیا نام ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption جہادی تنظیمیں اپنی کارروائیوں کی کوریج کے لیے ہر طرح کے ہتھکنڈے استعمال کرتی رہی ہیں

کالعدم تنظیم لشکر طیبہ تو کافی عرصے سے میڈیا سے اس حد تک غائب ہے کہ اس کی جانب سے کبھی کسی کارروائی کی ذمہ داری یا بیان سامنے نہیں آتا، لیکن جماعت الدعوۃ اور فلاح انسانیت خاصی متحرک تنظیمیں رہی ہیں۔

پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف پیس سٹڈیز کی جانب سے 2013 میں شائع ہونے والی کتاب ’ملیٹنس میڈیا ان پاکستان‘ کے مطابق جماعت الدعوۃ سات رسائل نکالتی ہے جن میں انگریزی ماہانہ ’وائس آف اسلام،‘ عربی زبان میں ’الانفعال،‘ اور اردو میں ’مجلہ الدعوۃ‘ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ عورتوں کے لیے ’طیبات‘ اور بچوں کے لیے ’روزتل،‘ ’الاطفال،‘ نوجوانوں اور طلبہ کے لیے ’ضرب طیبہ‘ اور سندھی زبان میں ’باب السلام‘ بھی ہیں۔

ان رسائل کی قیمتیں قومی اخبارات اور رسائل کے مقابلے میں انتہائی کم ہیں۔ ان تمام تصانیف کی اداراتی پالیسی میں جہاد کی ترویج غالب ہے۔

اسی طرز پر تقریباً ہر تنظیم کی اپنی اشاعات جاری ہیں۔ الامین ٹرسٹ جو پہلے الرشید ٹرسٹ کے نام سے سرگرم تھا، وہ بھی 1996 سے ہفتہ وار ’ضرب مومن‘ شائع کرتا چلا آ رہا ہے۔

لیکن شدت پسندی پر کڑی نگاہ رکھنے والے محقق عامر رانا کا کہنا ہے کہ ان تنظیموں کو پھر بھی قومی میڈیا کی ضرورت پڑتی ہے۔ ’اس میں کوئی شک نہیں کہ ان کا متبادل میڈیا کافی مضبوط اور وسیع ہو چکا ہے لیکن ان تنظیموں خصوصاً جماعت الدعوۃ کے امیر اور دیگر عہدیدار وقتاً فوقتاً ٹی وی پر دکھائی دیتے رہے ہیں۔ میڈیا پرنٹ اور الیکٹرانک دونوں ہو سکتے ہیں۔ انھیں اپنی حمایت بڑھانے کے لیے قومی میڈیا کی ضرورت پڑتی رہتی ہے۔ اس کے علاوہ انھیں جب اپنی پالیسی بیان یا وضاحت کرنا پڑتی ہے تو اپنے سے زیادہ قومی میڈیا ان کی ضرورت بن جاتا ہے۔‘

دیکھنے کے بات یہ ہے کہ پاکستانی الیٹرانک میڈیا پیمرا کے حکم پر کیسے عمل درآمد کرتا ہے۔ پاکستان میں اکثر ٹی وی چینلوں پر ہدایات کی خلاف ورزیاں ہوتی ہیں بعض اوقات انھیں سزا ملتی ہے اور کبھی نہیں بھی۔

لیکن عامر رانا کا کہنا ہے کہ ہمسایہ ملک بھارت کے ساتھ کشیدگی اور الٹرا نیشنلزم میں اضافہ ہے تو اس تناظر میں بعض حلقے سوچتے ہیں کہ پاکستان کو بھی اس کا جواب دینا چاہیے۔ ’فی الحال جو تنظیم ایسا کر سکتی ہے وہ جماعت الدعوۃ جیسی تنظیمیں ہی ہیں۔‘

اس تازہ حکومتی فیصلے کے بعد اس کی وضاحت ہو جانی چاہیے تھی کون سی تنظیمیں کالعدم ہیں یا نہیں۔ لیکن محسوس ہوتا ہے کہ ابہام ابھی بھی موجود ہے۔ ان تنظیموں کی تشہیر پر تو پابندی ہوگی لیکن سرگرمیوں پر نہیں۔

عامر رانا تسلیم کرتے ہیں کہ پیمرا کے اعلان کے فوراً بعد وزیر داخلہ کی اس وضاحت سے ابہام میں اضافہ ہوا ہے کہ ان کا اس سے کچھ لینا دینا نہیں۔ یہ صورت حال پالیسی کی سطح پر ابہام ہی کو سامنے لاتی ہے۔

اسی بارے میں