عمران خان کے خلاف صحافیوں کا احتجاج

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption صحافتی تنظیموں نے عمران خان سے اپنے ہتک آمیز روئے پر معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں صحافتی تنظیموں نے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی پشاور میں اخباری کانفرنس کے دوران صحافی کے ساتھ مبینہ ہتک آمیز رویے پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ان کےخلاف کل جمعرات وزیراعلیٰ ہاؤس کے سامنے احتجاج کا اعلان کردیا ہے۔

علیحدگی کے بعد میڈیا سے پہلا سامنا

عمران خان اور ریحام خان کے درمیان طلاق کا فیصلہ

اس بات کا فیصلہ بدھ کی شب پشاور کی صحافتی تنظیموں کے مشترکہ اجلاس میں کیا گیا جس میں خیبر یونین آف جرنلسٹس کے صدر نثارمحمود، پریس کلب کے صدر سید بخار شاہ اور پشاور میں تمام نیوز چینل کے بیورو چیف نے شرکت کی ۔

اجلاس میں مقامی صحافی عارف یوسف زئی کے سوال پر تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے مبینہ ہتک آمیز رویے کی شدید مذمت کی گئی اور ان کے طرزعمل کو اظہار رائے کی آزادی پر قدغن کے مترادف قرار دیا گیا۔

اجلاس میں فیصلہ کیاگیا کہ عمران خان کے رویے کے خلاف کل جمعرات کو دن کے 11 بجے وزیراعلیٰ ہاؤس کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا جائےگا جس میں تمام صحافتی تنظیموں کے نمائندے اور کارکن شرکت کریں گے۔

صحافتی تنظیموں نے عمران خان سے اپنے رویے پر معافی مانگنے کا بھی مطالبہ کیا اور اس امر پر اتفاق کیاگیا کہ معافی نہ مانگنے کی صورت میں ان کے خلاف احتجاج کو مزید وسعت دی جائے گی۔

خیال رہے کہ گذشتہ روز پشاور میں پریس کانفرنس کے دوران تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے مقامی صحافی عارف یوسفزئی کی طرف سے ان کی ذاتی زندگی سے متعلق کیےگئے سوال پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ان کو جھاڑ پلا دی تھی۔

بعد میں یہ خبر پورے ملک میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی اور کئی ٹی وی چینلز نے عمران خان کی طرف سے صحافی کے ساتھ مبینہ ہتک آمیز رویے پر رات گئے تک خصوصی پروگرام پیش کئے بلکہ آج بھی عمران خان کے وہ کلپ ٹی وی چینل پر وقتاً فوقتاً چلتے رہے جس میں صحافی کو جھاڑ پلائی گئی ہے۔

یہ امر بھی اہم ہے کہ عمران خان کی ریحام خان سے علحیدگی کے بعد وہ پہلی مرتبہ پشاور میں قومی میڈیا کے سامنے آئے۔

اسی بارے میں