پاکستان میں فیس بک پر بلیک میل کرنے پر ’پہلی‘ سزا

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ایف آئی اے اہلکار کے مطابق سائبر کرائم ونگ نے گذشتہ برس الیکٹرانک ٹرانزیکشن ایکٹ کے تحت 120 مقدمات درج کیے ہیں

اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت نے فیس بک پر جعلی اکاؤنٹ بنا کر ایک خاتون کو بلیک میل کرنے کے الزام میں ایک شخص کو تین سال قید اور 25 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی ہے۔

پاکستان میں یہ پہلا مقدمہ ہے جس میں کسی شخص کو مجرم گردانتے ہوئے سزا سنائی گئی ہے۔

سرگودھا میں فیس بک پر فحش مواد بھیجنے پر مقدمہ

پاکستان میں سائبر کرائم ایکٹ کا نفاذ نہیں ہوا تاہم اس شخص کو الیکٹرانک ٹرانزیکشن ایکٹ کے تحت تین سال کی سزا سنائی گئی ہے۔

وفاقی تحقیقاتی ادارے یعنی ایف آئی اے کے سائبر کرائم سرکل کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ راولپنڈی کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے بس کنڈیکٹر عامر قیوم جنجوعہ نے فیس بک پر اکاؤنٹ بنایا اور اس کی اسلام آباد میں ایک بین الاقوامی تعلیمی ادارے کی لڑکی کے ساتھ دوستی ہو گئی۔

اہلکار کے مطابق فیس بک پر ان دونوں کے درمیان گفتگو ہوتی رہی اور مجرم اس لڑکی کے ساتھ شادی کرنے پر بضد تھا۔ اہلکار کے مطابق جب لڑکی کو معلوم ہوا کہ عامر قیوم جنجوعہ بس کنڈیکٹر ہے تو اس نے شادی کرنے سے انکار کر دیا۔

اہلکار کے مطابق مجرم لڑکی کو دھمکیاں دیتا رہا کہ اگر اس نے شادی نہ کی تو وہ اس کی قابل اعتراض تصاویر فیس بک پر لگا دے گا تاہم لڑکی نے اس کو سنجیدگی سے نہ لیا۔

ایف آئی اے کے اہلکار کے مطابق مجرم نے فیس بک پر لڑکی کی قابل اعتراض تصاویر لگا کر اس کے رشتہ داروں کو بھیج دیں جس کے بعد لڑکی کے گھر والوں نے اسے گھر واپس بلا لیا اور ملزم کے خلاف کارروائی کے لیے ایف آئی اے کو درخواست دی جس پر ایف آئی اے نے الیکٹرانک ٹرانزیکشن ایکٹ کی دفعات 36 اور 37 کے تحت مقدمہ درج کر کے ملزم کو گرفتار کر لیا۔

تفتیش کے دوران جرم ثابت ہونے پر ایف آئی اے نے اس مقدمے کا چالان ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت میں بھجوا دیا جنھوں نے عامر قیوم جنجوعہ کو مجرم گردانتے ہوئے تین سال قید اور25 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی۔

ایف آئی اے اہلکار کے مطابق سائبر کرائم ونگ نے گذشتہ برس الیکٹرانک ٹرانزیکشن ایکٹ کے تحت 120 مقدمات درج کیے ہیں جن میں سے 60 مقدمات عدالت میں پیش کیے گئے ہیں اور ان مقدمات میں کسی ایک ملزم کو بھی اشتہاری قرار نہیں دیا گیا۔

اسی بارے میں