قومی اسمبلی میں واپسی سے قبل ڈی جی رینجرز سے ملاقات

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption متحدہ قومی مومنٹ کے رہنماؤں اور ڈائریکٹر جنرل رینجرز میجر جنرل بلال اکبر کے درمیان ملاقات کی خبر رینجرز کے ساڑھے تین سطور پر مشتمل اعلامیے کے ذریعے سامنے آئی جو قدرے مبہم بھی تھا

کراچی میں جاری ٹارگیٹڈ آپریشن کے بعد رینجرز اور متحدہ قومی موومنٹ کا پہلا باضابطہ رابطہ ہوا ہے، رینجرز کا کہنا ہے کہ آپریشن احسن طریقے سے آگے بڑھانے پر اتفاق ہوا ہے۔

گھرواپسی مگر ناراضگی برقرار

’الطاف بھائی سے کوئی اختلاف نہیں

متحدہ قومی مومنٹ کے رہنماؤں اور ڈائریکٹر جنرل رینجرز میجر جنرل بلال اکبر کے درمیان ملاقات کی خبر رینجرز کے ساڑھے تین سطور پر مشتمل اعلامیے کے ذریعے سامنے آئی جو قدرے مبہم بھی تھا۔

رینجرز کے ترجمان کے اعلامیے کے مطابق ڈائریکٹر جنرل رینجرز میجر جنرل بلال اکبر کے ساتھ جمعرات کو متحدہ قومی موومنٹ، جماعت اسلامی اور سندھ کے وزیر داخلہ نے ملاقات کی ہے۔ جس میں کراچی کے آپریشن کے معاملات اور بلدیاتی انتخابات کے آنے والے مراحل میں سکیورٹی کے بندوبست کے بارے میں تبادلہ خیال کیا گیا۔

ترجمان کے مطابق کراچی کے امن کو باہمی اشتراک اور یکسوئی کے ساتھ مضبوط کرنے اور آپریشن احسن طریقے سے آگے بڑھانے پر اتفاق ہوا ہے۔

کراچی میں متحدہ قومی موومنٹ اور جماعت اسلامی دیرینہ حریف رہی ہیں، اس سے قبل 2005 کے بلدیاتی انتخابات میں دونوں جماعتوں میں مقابلہ رہا تھا۔

یاد رہے کہ جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت میں ایک طویل عرصے کے بعد 2001 میں بلدیاتی انتخابات کا ایم کیو ایم نے بائکاٹ کیا تھا جبکہ جماعت اسلامی نے اکثریت سے کامیابی حاصل کی تھی جس کے بعد نعمت اللہ خان کو میئر منتخب کیا گیا بعد میں 2005 کے بلدیاتی انتخابات میں ایم کیو ایم نے کامیابی حاصل کی۔

کراچی میں ڈھائی سال سے رینجرز کی قیادت میں شہر میں جاری ٹارگٹڈ آپریشن سے سب سے زیادہ ایم کیو ایم متاثر ہوئی ہے دو بار اس کے مرکز نائن زیرو پر چھاپے مارے گئے اور درجنوں گرفتاریاں ہوئیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption رابطہ کمیٹی کے مطابق بے گناہ کارکنان کو رینجرز، پولیس اور سادہ لباس میں موجود اہلکاروں کی جانب سے بلاجواز گرفتار کیاجارہا ہے

متحدہ قومی موومنٹ رینجرز پر الزامات عائد کرتی رہی ہے کہآپریشن میں انھیں ٹارگٹڈ کیا جارہا ہے، جبکہ رینجرز کے ترجمان واضح کرتے رہے ہیں کہ آپریشن کسی مخصوص جماعت کے خلاف نہیں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف ہے۔

متحدہ قومی موومنٹ نے آپریشن پر تحفظات ظاہر کرتے ہوئے سینیٹ اور قومی اسمبلی سے استعفے دے دیئے تھے حکومت سے مذاکرات کے بعد یہ فیصلہ واپس لے لیا گیا، جس کے بعد سینیٹر دو روز قبل ایوان میں پہنچ گئے جبکہ اراکین اسمبلی آج قومی اسمبلی کے اجلاس میں شریک ہوں گے۔

متحدہ قومی موومنٹ کی شکایت پر سپریم کورٹ کے سابق جج ناصر اسلم زاہد کی سربراہی میں آپریشن کی نگران کمیٹی بھی تشکیل دے دی گئی ہے جو شکایت اور ان کا ازالہ کرے گی۔

رینجرز کے اعلامیے کے علاوہ متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے کوئی بھی بیان سامنے نہیں آیا اور نہ ہی روایتی طور پر کسی رہنما نے میڈیا سے بات کرکے ملاقات کے ایجنڈہ اور تفصیلات کے بارے میں آگاہ کیا ہے۔

دوسری جانب ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ رینجرز اہلکاروں نے ایم کیوایم نارتھ کراچی سیکٹر کے کارکن شاہنواز ولد محمدعتیق خان، پاک کالونی میں یونٹ 191 کے کارکن عامر راجو اور عمران بدر اور اورنگی ٹاؤن کے کارکن فخر عالم کو گرفتار کرلیا ہے۔

رابطہ کمیٹی کے مطابق بے گناہ کارکنان کو رینجرز، پولیس اور سادہ لباس میں موجود اہلکاروں کی جانب سے بلاجواز گرفتار کیاجارہا ہے اور اس طرح کی کارروایاں کرکے ایم کیوایم کو بزور طاقت بلدیاتی انتخابات میں کامیابی سے روکنے کا غیر جمہوری اور غیر سیاسی عمل کیاجارہا ہے۔

اسی بارے میں