پاکستان اور افغانستان میں شدت پسندی کا ذمہ دار کون؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption بعض مبصرین پاکستان کی جانب سے افغان انقلاب اور سویت یونین کے خلاف مجاہدین کی تربیت کرنا، انہیں اسلحہ دینے کو دہشت گردی کا آغاز قرار دیتے ہیں

ہمارے خطے میں خصوصاً پاکستان اور افغانستان میں انتہا پسندی اور دہشت گردی کے حوالے سے جو خاک و خون کا سیلاب رواں دواں ہے اس کے آغاز کے بارے میں مختلف تجزیہ نگار مختلف رائے رکھتے ہیں۔

پڑھیئے پہلا حصہ: ایک ناکام قوم پرست کا اقبالیہ بیان

افغان تـجزیہ نگاروں کی اس بارے میں تین رائے ہیں۔ نمبر ایک کہ یہ داود خان اس تمام قضیہ کے ذمہ دار ہیں جنہوں نے ظاہر شاہ کا تختہ الٹ کر آئندہ کی بغاوتوں کا راستہ ہموار کیا، دو وہ جو اپریل 1978 کے ثور انقلاب کو ذمہ دار ٹھراتے ہیں جس کے نتیجے میں خون بہنا شروع ہوا اور بیرونی قوتوں کو مداخلت کی دعوت کا سلسلہ شروع ہوا اور تیسرے وہ جو افغانستان میں سویت یونین کی افواج کے داخلے کو اس کا ذمہ دار گردانتے ہیں۔

دوسری جانب آذاد، لبرل اور بائیں بازو کے ماہرین بھی منقسم دکھائی دیتے ہیں۔ وہ 1974، 1975 میں پاکستان کی جانب سے گلبدین حکمت یار، براہان الدین ربانی، احمد شاہ مسعود کو منظم کرنے اور فوجی تربیت دینے کو اس تنازع کا پیش خیمہ قرار دیتے ہیں۔ دوسرا وہ جو اس معاملے کی اصل جڑ پاکستان کی جانب سے افغان انقلاب اور سویت یونین کے خلاف مجاہدین کی تربیت کرنا، انہیں اسلحہ دینا اور پاکستان میں ان کے کیمپ قائم کرنا کو آغاز قرار دیتے ہیں۔

تاہم سب ایک اہم عنصر کو نظر انداز کرتے ہیں۔ وہ یہ کہ ان تمام المیوں کی ذمہ داری نیشنل عوامی پارٹی، خصوصا ولی خان کا 1973 میں بھٹو اور پاکستان کے خلاف جنگ کا آغاز کرنے کا فیصلہ ہے۔

ذوالفقار علی بھٹو کے کردار سے آنکھیں بند کرنا ممکن نہیں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ نیشنل عوامی پارٹی نے غوث بخش بزنجو کی رضامندی کے بغیر تشدد کا راستہ اختیار کیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption غوث بخش بزنجو بھٹو سے مذاکرات کے خامی تھے

اگرچہ نیپ کے اس فیصلے میں بعض دیگر بلوچ رہنما اور کمیونسٹ بھی شامل تھے لیکن اصل فیصلہ عبدالولی خان کا ہی تھا۔ باچا خان کے بیٹے کے طور پر انھوں نے افغانستان میں اپنے اعتبار کا فائدہ اٹھایا۔ باچا خان نے مصلحتا خاموشی اختیار کی اور اس کی راہ میں روڑے نہیں اٹکائے۔ نیپ کی جانب سے پرتشدد راستہ 14 فروری 1973 میں اختیار کیا۔ یہ وہ وقت تھا جب سرحد اور بلوچستان میں گورنر برطرف کر دیئے گئے اور بلوچستان میں عطا اللہ مینگل کی حکومت ختم کر دی گئی۔ صوبہ سرحد میں نیپ اور جعمیت کی مخلوط حکومت نے احتجاجاً استعفی دے دیا۔

غوث بخش بزنجو ان حالات میں بھی بھٹو سے مذاکرات کے خامی تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھٹو کے ساتھ جنگ میں نقصان ہمارا ہی ہوگا۔ بزنجو اکیلے رہ گئے اور ولی خان کی منطق جیت گئی۔ افغانستان کی بربادی میں جو جتنا زیادہ حصہ لیتا ہے اتنا ہی زیادہ معتبر ٹھرتا ہے۔

ولی خان کی جانب سے پختون نوجوانوں کو افغانستان بھیجنے اور مسلح کرنے کے جواب میں پاکستان نے 1974 ، 1975 میں اخوانی عناصر کو مہمان بنانا، انہیں فوجی تربیت دینا اور مسلح کیا تھا۔اس تمام تباہی کے محرکین وہی لوگ ہیں جو آج عدم تشدد کے لبادے میں لپٹے ہیں۔ صدر داود کے سامنے دو ہی راستے تھے یا تو وہ غیرجانبدار رہتے یا ولی خان کی تحریک کا ساتھ دیتے۔

انھوں نے طبعی طور پر اپنے پرانے تعلق کی وجہ سے دوسری بات کا ساتھ دیا۔ میں افغانوں کی توجہ اس جانب بھی مبذول کروانا چاہتا ہوں کہ افغانستان میں پاکستان کی مداخلت کا الزام عائد کرنے والے اپنے اعمال پر توجہ کیوں نہیں دیتے، کہ کھیل تو اصل میں کس نے شروع کیا تھا۔ اب دونوں اطراف اعتراف کریں کہ ان سے غلطیاں ہوئیں اور اس کا آغاز اپنی خود احتسابی سے کریں۔

اسی بارے میں