’انصافیو، کہہ دو جناب سپیکر‘

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

پاکستانی سوشل میڈیا پر ’انصافیو_کہہ_دو_جناب_سپیکر‘ کا ہیش ٹیگ صفِ اول کا ٹرینڈ بن چکا ہے جس کی وجہ سردار ایاز صادق کا دوبارہ سپیکر قومی اسمبلی منتخب ہونا ہے۔

پاکستان مسلم لیگ ن کی سوشل میڈیا ٹیم کی جانب سے یہ ٹرینڈ عمران خان اور تحریکِ انصاف کے خلاف ٹویٹس سے بھرپور ہے اور ہزاروں ٹویٹس پڑھنے کے بعد صرف دو ایسی ملیں جنھیں یہاں شامل کیا جا سکا۔

کامران انصاری نے لکھا کہ ’مجھے آج وہ شخص یاد آ رہا ہے جو اسی اسمبلی کو جعلی کہتا تھا اور آج اسی میں جا کر بیٹھا ہے۔‘

کامران سرفراز نے طنز کرتے ہوئے لکھا: ’اپنی پارٹی کے پورے ایم این اے ووٹ نہیں دیتے اور مہاتما چلے تھے وزیراعظم بننے۔‘

مسلم لیگ ن کی رکن قومی اسمبلی مائزہ حمید نے لکھا: ’آج پی ٹی آئی کے اراکین نے سردار ایاز صادق کو مسٹر سپیکر سر کہہ کر مخاطب کیا۔‘

اینکر اور صحافی نصرت جاوید نے لکھا: ’شاہ محمود قریشی کا اصرار ہے کہ پی پی پی اور ایم کیو ایم جیسی جماعتوں نے کسی گھناؤنے مقصد کے لیے ایاز صادق کی حمایت کی۔ ٹھیک ہے، مگر جماعت اسلامی اور قومی وطن پارٹی کے ساتھ کیا معاملہ ہے؟‘

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

پاکستان تحریکِ انصاف نے عمران خان کے بیان کو چھ نومبر کو پی ٹی آئی نے ٹویٹ کیا کہ ’اگر اتنے سارے مسائل کے بعد بغیر کسی تحقیق کے ایاز صادق قومی اسمبلی کا سپیکر بن جاتا ہے، تو ہم کیوں نہ الیکشن کمیشن سے جواب طلب کریں۔‘

ثاقب اظہر نے لکھا ’سردار ایاز صادق کی قومی اسمبلی کے سپیکر کے طور پر واپسی سچائی اور ایمانداری کی فتح ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

پی ٹی آئی کی رہنما شیریں مزاری کی صاحبزادی ایمان حاضر مزاری نے ٹویٹ لکھی: ’سردار ایاز صادق جو قومی اسمبلی کے حقیقی سپیکر ہیں آج قومی اسمبلی میں واپسی پر کتنا خوش ہوں گے۔ واپسی مبارک ہو۔‘

اس کے بعد انہوں نے ایک اور ٹویٹ لکھی کہ ’میری ایاز صادق کے بارے میں ٹویٹ کے تھوڑی دیر بعد میری والدہ نے مجھے میسیج کر کے پوچھا کہ میں نے کیا لکھ دیا ہے کیونکہ انھیں ٹوئٹر پر بہت زیادہ تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا تھا۔‘

اسی بارے میں