ایاز صادق دوبارہ قومی اسمبلی کے سپیکر منتخب

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ایوان میں پاکستان مسلم لیگ(ن) کے188 ارکان ہیں

پاکستان کی قومی اسمبلی میں سپیکر کے عہدے کے لیے ہونے والے انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ ن کے امیدوار ایاز صادق نے پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار شفقت محمود کو 31 کے مقابلے میں 268 ووٹوں سے ہرا کر کامیابی حاصل کر لی ہے۔

قائم مقام سپیکر مرتضیٰ جاوید عباسی کی صدرات میں جاری اجلاس میں خفیہ رائے شماری کے تحت انتخاب ہوا۔ وزیرِ اعظم نواز شریف نے اپنا ووٹ ڈال کی ووٹنگ کا آغاز کیا۔

ایوان میں تحریک انصاف کے لیے علاوہ حزب اختلاف کی تقریباً تمام سیاسی جماعتوں نے ایاز صادق کی حمایت کا اعلان کیا۔ ایاز صادق نے قومی اسمبلی کے 20ویں سپیکر کی حیثیت سے اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے۔

ایاز صادق نے منصب سنبھالنے کے بعد اسمبلی سے خطاب میں پیپلز پارٹی پارلیمنٹیریئن، ایم کیو ایم، جماعت اسلامی، پختونخواہ ملی عوامی پارٹی، مسلم لیگ ق، اور جمعیت علماء اسلام سمیت فاٹا کے ارکان اور دیگر سیاسی جماعتوں کا شکریہ ادا کیا جنھوں نے ان پر اعتماد کا اظہار کیا۔

انھوں نے پاکستان تحریکِ انصاف کا شکریہ ادا کیا کہ انھوں نے جمہوریت کو مضبوط کرنے کے لیے اپنی رائے کے مطابق ووٹ دیا۔

انھوں نے کہا کہ وہ جمہوریت کے استحکام کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایوان کی کارروائی کو تمام ارکان کی مشاورت سے چلایا جائے گا۔

سپیکر کے عہدے کے لیے پاکستان تحریکِ انصاف کے امیدوار شفقت محمود نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’سپیکر منتخب ہونے کے بعد سیاستدان کسی مخصوص جماعت سے وابستگی ختم کرکے سب اراکین کےلیے برابر کا رویہ اختیار کرتا ہے اور امید ہے کہ منتخب سپیکر اس پر عمل پیرا ہوں گے۔‘

قائد حزبِ اختلاف سید خورشید شاہ کا اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ آج اسمبلی کی تاریخ کا اہم دن ہے۔

ان کا کہنا تھا کے ’انتخابی اصلاحات کی اشد ضرورت ہے ، جتنی جلدی یہ ہوں گی انتخابات سے متعلق مسائل حل ہوں گے۔ ‘

ایاز صادق کو مخاطب کرتے ان کا کہنا تھا کہ ’بطور سپیکر آپ کا دوسری مرتبہ انتخاب اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ نے اس سے پہلے دو سال سے زائد عرصے میں اپنا کردار اچھے طریقے سے ادا کیا۔ یہ اسی بات کا اعتماد ہے۔ اور امید ہے کہ آپ یہ روایت قائم رکھیں گے۔‘

اس عہدے کے لیے پاکستان مسلم لیگ ن کے امیدوار سردار ایاز صادق نے اتوار کو اسلام آباد میں سیکریٹری قومی اسمبلی کے پاس اپنے کاغذات نامزدگی جمع کروائے تھے۔ پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار شفقت محمود اور فاٹا کے امیدوار ڈاکٹر جی جی جمال نے بھی اپنے کاغذات نامزدگی جمع کرائے بعدازاں جی جی جمال نے سردار ایاز صادق کے حق میں دستبردار ہوتے ہوئے ان کی حمایت کا اعلان کیا۔

ایوان میں پاکستان مسلم لیگ ن کے188، پیپلز پارٹی کے 46 تحریک انصاف کے 33، ایم کیوایم کے 24 اور جمعیت علمائے اسلام ف کے13 ارکان ہیں۔

Image caption حکمراں جماعت مسلم لییگ(ن) کی طرف سے سابق سپیکر ایاز صادق ہی امیدوار ہیں

خیال رہے کہ الیکشن ٹریبیونل نے پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان کی درخواست پر قومی اسمبلی کے حلقے این اے 122 میں دوبارہ انتخابات کروانے کا حکم دیا تھا۔ ایاز صادق نے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج نہیں کیا تھا اور 11 اکتوبر کو ہونے والے ضمنی انتخاب میں پاکستان تحریک انصاف کے اُمیدوار کو شکست دی تھی۔

اسی بارے میں