دیر بالا کی معدوم ہوتی چاقو، چھریوں کی صنعت

Image caption ان چاقو، چھریوں کی خاص بات یہ ہے کہ یہ بڑی مہارت کے ساتھ ہاتھ سے بنائے جاتے ہیں

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے ضلع دیر بالا میں گھریلو استعمال کے لیے ہاتھ سے بنے ہوئے چاقو اور چھریاں بہترین کوالٹی اور مہارت کے باعث پاکستان اور بیرونی ممالک میں مشہور سمجھی جاتی ہیں لیکن حکومتی سرپرستی نہ ہونے کی وجہ سے یہ مقامی صنعت معدوم ہوتی جا رہی ہے۔

دیر بالا کے صدر مقام دیر خاص بازار میں چاقو بنانے کی تقر یباً 40 کے قریب دوکانیں قائم ہیں۔ مقامی سطح پر بننے والے یہ چاقو زیادہ تر گھریلو استعمال یعنی سبزیاں،گوشت اور فروٹ کاٹنے کے لیے استعمال کئے جاتے ہیں۔

ہاتھ سے بننے والے چاقو چھریاں: تصاویر

کیا ہم افغانستان یا ہندوستان سے آئے ہیں؟

مکانات کی تعمیرِ نو میں پھر سے غلطی

اس چاقو کی خاص بات یہ ہے کہ یہ بڑی مہارت کے ساتھ خالصتاً ہاتھ سے بنائے جاتے ہیں اور یہ پائیدار بھی ہوتا ہے جو سالہاسال بغیر خراب ہوئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

دیر میں ویسے تو کئی قسم کے چاقو، خنجر اور چھریاں تیار ہوتی ہیں لیکن ان میں چینی ڈیزائن، ماہی اور سادہ ڈیزائن کے چاقو اور چھریاں زیادہ شہرت رکھتے ہیں جو عام طور پرگھروں میں استعمال کئے جاتے ہیں۔

ان چاقووں کی قیمتیں چار سو روپے سے لے کر ایک ہزار روپے تک بتائی جاتی ہے تاہم خصوصی خنجر بنانے کی قیمت زیادہ ہے۔

دیر بازار میں چاقو بنانے کی صنعت سے وابستہ ایک کاریگر شاہ خالد نے بی بی سی کو بتایا کہ دیر کے چاقوؤں، چھریوں اور خنجروں کی دنیا بھر میں مانگ ہے۔ بالخصوص خلیجی ممالک اور افغانستان میں زیادہ برآمد کیے جاتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ یہاں سے ہر سال ہزاروں کی تعداد میں گھریلو استعمال کی چھریاں اور خنجر سعودی عرب، مسقط ، دبئی، اومان اور دیگر ممالک میں بھیجے جاتے ہیں۔

ان کے مطابق: ’مجھے حال ہی میں دبئی سے ایک بڑا آرڈر ملا ہے جس کی تیاری شروع کردی گئی ہے تقریباً تین ہزار عدد چاقو اور چھریاں تیار کرنے ہیں جس کے لیے وقت زیادہ درکار ہے کیونکہ ہمارا تمام کام ہاتھ سے ہوتا ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ دیر بالا میں پہلے چاقو اور چھریاں بنانے کی تقریباً سو کے قریب دوکانیں قائم تھیں لیکن حکومتی سرپرستی نہ ہونے کی وجہ سے یہ صنعت کوئی قابل ذکر ترقی نہیں کرسکی ہے اور اب زیارہ تر دکانیں بند ہو چکی ہیں۔

دیر میں چاقو بنانے کی صنعت کا آغاز دیر کے اس وقت کے حکمران نواب آف دیر شاہ جہان خان کے دور میں ہوا تھا۔

دیر بالا سے تعلق رکھنے والے پشاور کے سینیئر صحافی محمد قاسم نے بی بی سی کو بتایا کہ نواب صاحب کے دور میں چاقو بنانے کے کئی کارخانے قائم تھے اور اس وقت اس صنعت کو ریاستی سرپرستی حاصل تھی۔

انھوں نے کہا کہ نواب آف دیر چاقو اور چھریاں بنانے کے کاریگروں کے درمیان ہر سال مقابلے کراتے تھے اور جو کاریگر اچھا چاقو بناتا اسے انعام سے بھی نوازا جاتا۔

Image caption ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ دیر کے کاریگروں کی مہارت اصل فن ہے جو کہیں اور نہیں

انھوں نے کہا کہ نواب صاحب کے دور میں جس علاقے میں کارخانے قائم تھے وہ مقامات آج بھی کارخانوں کے نام سے مشہور ہے۔

ان کے بقول 60 کی دہائی میں جب ریاست دیر پاکستان میں شامل ہوا تو اس کے بعد بھی یہ صنعت کافی عرصہ تک فعال رہی اور لیکن اب کچھ عرصے سے چھوٹے پیمانے پر قائم یہ صنعت ختم ہوتی جارہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ان چھوٹے صنعت کاروں کو حکومت کی طرف سے کوئی مراعات حاصل نہیں اور نہ ان کے مال کو بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی حاصل ہے۔

دیر خاص میں چاقو بنانے کے ایک اور کاریگر سفیع اللہ نے بتایا کہ چاقو بنانے کے لیے تمام خام مال پنجاب کے شہر وزیر آباد اور دیگر شہروں سے آتا ہے جس کی وجہ سے صنعت کاروں کو زیادہ منافع نہیں ہوتا۔

ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ دیر کے کاریگروں کی مہارت اصل فن ہے جو کہیں اور نہیں۔

دیر بالا زیادہ تر پہاڑی دیہات پر مشتمل ہے۔ یہاں کے بیشتر نوجوان خلیجی مالک میں محنت مزدوری کرتے ہیں تاہم آبادی کا ایک چھوٹا حصہ چاقو کی صنعت سے بھی وابستہ ہے۔

اسی بارے میں