لاہور فیکٹری: ریسکیو آپریشن ختم، ہلاکتوں کی کُل تعداد 45

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر لاہور کے ضلعی رابطہ افسر عثمان ابراہیم کا کہنا ہے کہ 130 گھنٹے کے آپریشن کے بعد فیکٹری کی منہدم عمارت کو کلیئر قرار دے دیا گیا ہے۔

ڈی سی او عثمان ابراہیم نے بتایا کہ 130 گھنٹے کے آپریشن میں ملبے میں سے 103 افراد کو زندہ نکالا گیا جبکہ 45 لاشیں برآمد کی گئیں۔

ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کی کوششیں جاری: تصاویر

لاہور میں کارخانہ منہدم ہونے سے ہلاکتیں: تصاویر

ان کا کہنا تھا کہ منہدم فیکٹری کے ملبے میں مزید لوگوں کے زندہ ہونے یا کسی کی لاش ہونے کا امکان نہیں ہے۔

آپریشن کی تفصیلات بتاتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اس آپریشن میں دو ہزار اہلکاروں نے حصہ لیا جن میں فوجی جوان، ریسکیو 1122 ، ضلعی حکومت اور دیگر فلاحی ادارے کے کارکنان شامل تھے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل ڈی سی او لاہور نے بتایا تھا کہ حاضری کے رجسٹر کے مطابق حادثے کے وقت عمارت میں کم سے کم 114 افراد موجود تھے۔

ڈی سی او لاہور کے مطابق زیادہ تر ہلاکتیں عمارت کے گراؤنڈ فلور اور پہلی منزل پر ہوئی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption حادثے کے بعد لاہور کے سروسز، جناح اور شریف میڈیکل سٹی میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی

حادثے کی تحقیقات کرنے والی کمیٹی کے ارکان نے جمعرات کو جائے حادثہ کا دورہ کیا تھا۔

جائے حادثہ پر امدادی کارروائیاں اب بھی جاری ہیں تاہم بی بی سی کی نامہ نگار شائمہ خلیل کے مطابق خدشہ ہے کہ اب ملبے تلے کوئی زندہ فرد نہیں رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ چار منزلہ عمارت کی دو منزلوں کا ملبا ہٹایا جا سکا ہے تاہم خدشہ ہے کہ حادثے کے وقت پہلی منزل پر بہت سے مزدور موجود تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بھاری مشینری کی مدد سے عمارت کی اوپری منزل کا ملبا ہٹایا جا رہا ہے

اسی بارے میں