’یہ بغاوت نہیں، پرخلوص کوشش ہے‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

پاکستانی فوج کی جانب سے کورکمانڈرز کانفرنس کے بعد جاری کیے جانے والے بیان میں حکومت کو اپنی حکمرانی کو بہتر کرنے حوالے سے مشورہ سے ملک میں بحث چھڑ گئی ہے۔

ماضی میں بھی جمہوری حکومت اور فوجی قیادت کے درمیان اختلافات کی باتیں ہوتی رہی ہیں اور دونوں ہی طرف سے اس کی تردید کی جاتی رہی ہے لیکن فوج کے تازہ بیان کے بعد لوگ پھر سے یہ سوال کر رہے ہیں کہ کہیں تازہ بیان کسی کشیدگی کا اشارہ تو نہیں؟

فوج کو کیا ہدایات دینے کا اختیار ہے؟ویڈیو رپورٹ

دو شریفوں میں گڑبڑ ہوئی تو سویلین شریف کے ساتھ: اچکزئی

’راحیل شریف کا موڈ اچھا رکھنے کی ڈیوٹی‘

پارلیمان کے کئی اراکین اسے جمہوری حکومت اور فوج کے درمیان اختلاف سے تعبیر کرتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’لگا تو یہی کہ شاید ان کے بیچ میں کوئی دراڑ ہے جس کا اظہار کیا گیا‘

عوامی نیشنل پارٹی کے سینیٹر زاہد خان کہتے ہیں: ’لگا تو یہی کہ شاید ان کے بیچ میں کوئی دراڑ ہے جس کا اظہار کیا گیا۔اگر ایسا نہیں ہے تو وزیر اعظم اور آرمی چیف کی ملاقاتیں ہوتی ہیں جن میں یہ باتیں اندر بیٹھ کے ہوسکتی ہیں بجائے اس کے کہ یہ میڈیا میں آئیں۔‘

انھوں نے کہا کہ فوج کے ایسے بیانات سے دنیا پر یہ تاثر جاتا ہے کہ پاکستان میں آج بھی فوج کی بالادستی ہے۔’ہندوستان آپ کا دشمن ہے، افغانستان کو بھی آپ نے دشمن بنا لیا ہے۔ تو پھر دنیا اسے اس طرح سے دیکھتی ہے کہ وہ ہماری سول حکومت کے ساتھ کیا مذاکرات کریں۔‘

انھوں نے کہا کہ حکومت کی کارکردگی پر تنقید کے لیے پارلیمان موجود ہے اور آرمی چیف کو اپنی رائے براہ راست وزیر اعظم کو دینی چاہیے۔

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption ایسے بیانات سے دنیا پر یہ تاثر جاتا ہے کہ پاکستان میں آج بھی فوج کی بالادستی ہے: سینیٹر زاہد خان

راولپنڈی میں منگل کے روز ہونے والی کور کمانڈرز کانفرنس کے بعد فوج نے جو بیان جاری کیا اس میں سویلین اداروں کی کی کارکردگی، قبائلی علاقوں میں التوا کی شکار اصلاحات اور نامکمل تفتیشوں کو اہم مسائل بتایا گیا ہے جس سے یہ تاثر پیدا ہوا ہے کہ فوج تو دہشتگردی کے خاتمے کے لیے اپنا کام کر رہی ہے مگر حکومت اور سویلین ادارے اپنا خاطر خواہ کردار ادا نہیں کررہے۔

حکومت کہتی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف قومی لائحہ عمل پر عملدرآمد میں بہت سی مشکلات درپیش ہیں اور یہ کہ فوج کا یہ بیان مثبت اور تعمیری رائے سمجھتی ہے۔ مسلم لیگ نون کے سینیٹر اور ریٹائرڈ جنرل عبدالقیوم نے بی بی سی اردو سروس کو بتایا کہ ’یہ کوئی بغاوت نہیں ہے۔ یہ ایک بڑی پرخلوص کوشش ہے کہ ہم ان مقاصد کے حصول کے لیے آگے چلیں اور ہمارے جو ادارے پیچھے رہ رہے ہیں وہ آگے آئیں اور مجھے یقین ہے کہ اس پر نوٹس لیا جائے گا۔‘

انھوں نے کہا کہ کل آرمی چیف سے ملاقات کے دوران جن نکات کی نشاندہی کی گئی وزیر اعظم نے اسی وقت ان پر احکامات جاری کیے اور کہا کہ آرمی چیف بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں۔

پاکستان میں یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ دہشت گردی کے خلاف قومی لائحہ عمل یا نیشنل ایکشن پلان کی قیادت فوج کے ہاتھوں میں رہی ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کے بقول فوج نے اس بیان سے عوام اور حکومت دونوں کو پیغام پہنچانے کی کوشش کی ہے۔

بی بی سی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے تجزیہ کار مرتضیٰ سولنگی نے کہا کہ ’اگر سیاسی اعتبار سے دیکھیں تو یہ ایک چارج شیٹ ہے۔ اس کا مطلب عوام کو یہ بتانا ہے کہ ہم یہ بات حکومت سے کہہ رہے ہیں تاکہ لوگوں کو بھی پتہ چلے کہ مختلف طاقتوں کی مختلف مسائل پر کیا پوزیشن ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ حکومت کو کچھ نہ کچھ کرنا پڑے گا۔ خاص طور پر مدرسوں اور قبائلی علاقوں کی اصلاحات اور انسداد دہشت گردی کے قومی ادارے نیکٹا کو بااختیار اور فعال بنانے کے لیے۔ ’ان معاملات میں حکومت کی جو کارکردگی ہے وہ قابل فخر نہیں ہے اور وہ جب تک اسے ٹھیک نہیں کرے گی تو اس پر ادھر اُدھر سے تنقید ہوتی رہے گی۔‘

جمہوری قوتیں شدت پسندوں کی محفوظ پناہ گاہیں تصور کیے جانے والے قبائلی علاقوں میں اصلاحات پر ہمیشہ سے زور دیتی رہی ہیں مگر کبھی پیش رفت نہیں ہوسکی۔ ایسے وقت میں جب فوج وہاں آپریشن میں مصروف ہے، کیا سویلین حکومت ان علاقوں کے بارے میں کوئی بڑا فیصلہ کر سکتی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ جمہوری حکومت اس معاملے پر فوج کی حمایت کا فائدہ کیسے اٹھاتی ہے۔

اسی بارے میں