’اگر ظالم مسلمان ہے تو ہندو برادری کےساتھ کھڑا ہوں گا‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یہ پہلا موقع ہے کہ ملک کی اہم جماعتوں کے سربراہ اس طرح دیوالی تقریبات میں شریک ہو رہے ہیں

پاکستان کے وزیراعظم میاں نواز شریف نے ہندو برادری کو یقین دہانی کرائی ہے کہ اگر ان پر ظلم ہوتا ہے اور ظالم مسلمان ہے تو وہ ہندو برادری کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔

کراچی کے مقامی ہوٹل میں بدھ کو ہندو برادری کے مذہبی تہوار دیوالی کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ یہ ان کا فرض اور ذمہ داری ہے کہ اگر کوئی ظلم کا شکار ہے اس کا تعلق چاہے کسی بھی فرقے اور مذہب سے ہوں اس کی مدد کریں۔

’وہ دن دور نہیں جب پاکستان میں کوئی ہندو نہ رہے‘

’پاکستان میں تو دوسرے درجے کے شہری تھے‘

انھوں نے کہا ’ہندو کے خلاف ظلم ہوتا ہے اور ظلم کرنے والا مسلم ہے تو میں مسلمان کے خلاف ایکشن لوں گا، جو ظلم کرتا ہے اس کے خلاف آپ کے ساتھ مل کر کھڑا رہوں گا میرا مذہب یہ ہی سکھتا ہے اور صرف اسلام نہیں ہر مذہب یہ ہی سکھاتا ہے کہ ظالم کا نہیں مظلوم کا ساتھ دو۔‘

میاں نواز شریف کا کہنا ہے کہ کئی لوگ کہتے ہیں اگلے جہاں میں حساب کتاب ہوگا لیکن پہلا حساب کتاب تو اسی دنیا میں ہوگا اگلے جہاں میں تو دوسرا حساب کتاب ہوگا۔

’ہم ایک قوم اور ملک ہیں۔ جتنا بھی ہو سکے اتحاد پیدا کریں ایک دوسرے کی مدد کریں، مسلمان ہندوؤں سے خوشیاں بانٹیں، ہندو مسلمانوں اور سکھوں سے، رب بھی اسی میں راضی ہے، رب اس میں راضی نہیں کہ ہم تفریق پیدا کریں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حالیہ برسوں میں کئی پاکستانی ہندو خاندانوں نے بھارت ہجرت کی ہے

پاکستان میں پہلی بار وزیراعظم نے ہندو برادری کے مذہبی تہوار میں شرکت کی ہے اور انھوں نے اس خواہش کا بھی اظہار کیا کہ انھیں رنگوں کے تہوار ہولی میں بھی شرکت کی دعوت دی جائے۔

’میں اپنے دوستوں سے گلا کرتا تھا کہ اپنی خوشیوں میں مجھ کیوں نہیں بلاتے مجھے بھی خوشیوں میں شریک ہونے کا موقع دیں اور آئندہ اس جگہ بلائیں جہاں آپ تہوار مناتے ہیں اور جس طرح ایک دوسرے پر رنگ پھینکتے مجھے پر بھی پھینکے اس سے مجھ بڑے خوشی ہوگی۔‘

وزیر اعظم نے بھگت کنور رام میڈیکل کمپلیکس اور بابا گرو نانک گردوارے کی تعمیر کا اعلان کیا اور کہا کہ وہ ہی ان کا سنگ بنیاد رکھیں گے۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو مٹھی اور تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان عمرکوٹ میں ہندو برداری کی خوشیوں میں شرکت کر رہے ہیں۔ دونوں شہروں میں ہندو آبادی کی ایک بڑی تعداد رہتی ہے اور دوسرے مرحلے میں بلدیاتی انتخابات بھی منعقد کیے جائیں گے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ ملک کی اہم جماعتوں کے سربراہ اس طرح دیوالی تقریبات میں شریک ہو رہے ہیں۔

اسی بارے میں