زلزلے کے جعلی متاثرین کے خلاف کارروائی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption 26 اکتوبر کو آنے والے زلزلے میں 232 افراد ہلاک جبکہ 1534 زخمی ہوگئے تھے

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں حکام کے مطابق صوبے بھر میں ایک ہزار سے زائد جعلی متاثرینِ زلزلہ کی نشاندہی کے بعد ان کے خلاف کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔

حکام کے مطابق غیر مستحق افراد کے امدادی رقوم اور سامان لینے پر ان کے خلاف این ڈی ایم اے ایکٹ کے تحت کاروائی کی جا رہی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ جعلساز متاثرین کوگرفتار کر کے انہیں جیل بھیجنے کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے جبکہ بعض علاقوں میں جعلی متاثرین کی مدد کرنے پر علاقے کے پٹواریوں کو بھی معطل کر دیا گیا ہے۔

حالیہ زلزلے میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ضلع شانگلہ میں انتظامیہ نے تصدیق کے بعد غیر مستحق افراد کے امدادی رقوم کےچیک بلاک کر دیے ہیں۔

اس حوالے سے ضلع شانگلہ کے ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر جاوید اقبال نے بتایا کہ ضلع کے مختلف علاقوں سے جعلسازی میں ملوث غیر مستحق افراد کے مقدمے سماعت کے لیے عدالتوں میں بھیج دیے گئے ہیں اور انھیں دو سال قید اور پانچ لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔

انتظامیہ نے متاثرہ علاقوں میں اصلی اور جعلی متاثرین کی شناخت اور تحقیقات کے لیے چار ٹیمیں ترتیب دی ہیں جو متاثرہ علاقوں میں جا کر تحقیقات کر رہی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption زلزلے سے 93 ہزار سے زائد مکانات اور سکولوں سمیت 562 سرکاری عمارتوں کو نقصان پہنچا تھا

تھانہ چکیسر کے پولیس اہلکار قریب اللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ چکیسر میں 22 جعلی متاثرین کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہیں جن میں آٹھ کوگرفتاری کے بعد جیل بھیج دیا گیا ہے جبکہ دیگر کی گرفتاری کے لیے کارروائی جاری ہے۔

سوات کے علاقے بحرین میں بھی تین خواتین سمیت 12 غیر مستحق متاثرین کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ بریکوٹ میں بھی جعلی متاثرین سے ریکوری کی گئی ہیں اور ایک پٹواری کو معطل کیا گیا ہے۔

شانگلہ کے ضلعی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ جعلی متاثرین کو یہ کہا گیا ہے کہ اگر وہ خود چیک واپس کر دیں تو ان کے خلاف کارروائی نہیں کی جائے گی۔

واضح رہے کہ 26 اکتوبر کے زلزلے میں 232 افراد ہلاک جبکہ 1534 زخمی ہوگئے تھے۔ زلزلے سے 93 ہزار سے زائد مکانات اور سکولوں سمیت 562 سرکاری عمارتوں کو نقصان پہنچا تھا۔

اسی بارے میں